DG ISPR Effective governance essential for national security, no possibility of further talks with terrorists

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر  کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اور شفاف گورننس بنیادی ضرورت ہے، جبکہ دہشت گردوں کے ساتھ مزید مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست آئین اور قانون کے مطابق تمام چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔

انسداد دہشت گردی اور ملکی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر عوام کو گورننس سے متعلق شکایات ہیں تو ان کا حل آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مؤثر گورننس پاکستان کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے اور اگر ضرورت ہو تو انتظامی اصلاحات بھی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم قومی ایکشن پلان کے 14 نکات پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق موجود ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز نہیں جیت سکتیں بلکہ اس میں عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ عوام میں تقسیم اور کنفیوژن پیدا کرنے کے بجائے شعور اور اتحاد کو فروغ دیں تاکہ ریاستی اداروں کو دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی میں عوامی حمایت حاصل ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کے بقول دہشت گردوں کے سامنے صرف دو راستے ہیں، یا تو وہ ہتھیار ڈال دیں یا پھر ریاست پوری طاقت سے ان کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے چند بااثر عناصر اور سردار صوبے کے غریب عوام، خصوصاً نوجوانوں، کی ترقی نہیں چاہتے، تاہم ریاست بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انہی سے براہ راست بات کرے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی، منشیات، ڈیزل اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان میں پولیس اور لیویز پر 105 حملے ہوئے، 178 افراد شہید ہوئے، 55 اغوا کے واقعات پیش آئے جبکہ 24 پل تباہ کیے گئے۔ انہوں نے بلوچستان پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف منظم پروپیگنڈا بھی چلایا جاتا ہے، جسے بھارتی میڈیا اور تین سو سے زائد بھارتی ویب سائٹس بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔

رواں سال دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے، یعنی اوسطاً روزانہ دس دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ 

لاپتا افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس مسئلے پر مختلف اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں، تاہم اس کے لیے قائم کمیشن کے پاس ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے بڑی تعداد کی شناخت ہو چکی ہے۔ 

کشمیر کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔