اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی کی خبر کے مطابق شمالی افریقا میں واقع اسپین کے خودمختار شہر سیوٹا میں تارکین وطن کے بڑے پیمانے پر داخل ہونے کے بعد اسپین نے سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مراکش سے ہزاروں افراد سمندر کے راستے یا سرحدی رکاوٹیں عبور کر کے سیوٹا میں داخل ہوئے، جبکہ اس خطرناک سفر کے دوران کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
بی بی سی کے مطابق گزشتہ چند روز سے سیوٹا پہنچنے کی کوششوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، تاہم جمعرات کو صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہوگئی جب ہزاروں افراد سرحدی جیٹی کے اطراف سمندر میں اتر کر تیرتے ہوئے اسپین کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہونے لگے۔ بعض افراد کامیاب رہے، جبکہ کئی سمندر میں ڈوب گئے۔
اسپین کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج سول گارڈ کے ساتھ مل کر سیوٹا میں سیکیورٹی برقرار رکھنے اور سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ حالیہ عدالتی فیصلے کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
رواں ماہ اسپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ سیوٹا یا میلیلا پہنچنے کی کوشش کرنے والے ایسے تارکین وطن، جنہیں سمندر میں روکا جائے، انہیں فوری طور پر مراکش واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ حکام کے مطابق اسمگلروں نے اسی فیصلے کو بنیاد بنا کر بڑی تعداد میں افراد کو یورپ جانے پر آمادہ کیا۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز جمعہ کو سیوٹا کا دورہ کریں گے اور صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے استقبال کے مراکز اپنی گنجائش سے بھر چکے ہیں اور شہر کے وسائل شدید دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ مرکزی حکومت سے فوری امداد کی درخواست کی گئی ہے۔
اس بحران پر یورپ میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سیوٹا کی صورتحال کو یورپی سرحدی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت کھلی سرحدوں کے نظام پر غیر معمولی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ تاہم اسپین کے وزیر خارجہ ہوزے لوئس الباریس نے ان بیانات کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہجرت جیسے مشترکہ مسئلے پر یورپی ممالک کو سیاسی بیانات کے بجائے باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
رائٹرز کے مطابق ہسپانوی میڈیا کا اندازہ ہے کہ صرف جمعرات کے روز 2 ہزار سے 3 ہزار افراد سیوٹا میں داخل ہوئے، اگرچہ گارڈیا سول نے ابھی تک اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
