اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو دسمبر 2028 تک مزید تین برس کے لیے رول اوور کر دیا ہے، جس کے بعد رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی مجموعی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب سے مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کے کیش ڈپازٹس حاصل کر رکھے ہیں، جن میں سے 5 ارب ڈالر کو اب تین سال کی توسیع دی گئی ہے، جبکہ رواں سال اپریل میں حاصل کیے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی مدت میں بھی مزید توسیع کی گئی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران مرکزی بینک نے اوپن مارکیٹ سے 9 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی خریدی، جبکہ گزشتہ تین برسوں میں مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر خریدے جا چکے ہیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں تقریباً نصف ارب ڈالر کی کمی آئی ہے، جس سے بیرونی مالی دباؤ مزید کم ہوا۔ ان کے مطابق رواں مالی سال میں مجموعی 21.5 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات میں سے 7.5 ارب ڈالر قرضوں کی خالص واپسی پر مشتمل ہیں، جن میں سے 2.2 ارب ڈالر جولائی کے دوران ادا کیے جا چکے ہیں۔
جمیل احمد نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں 1.3 ارب ڈالر کا چینی کمرشل قرض واپس کیا، جس کے باعث 17 جولائی تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.3 ارب ڈالر رہ گئے، تاہم توقع ہے کہ چین آئندہ ماہ یہی رقم دوبارہ فراہم کر دے گا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترسیلاتِ زر پر کوئی سبسڈی مختص نہیں کی، تاہم اب بیرون ملک سے رقوم کی منتقلی کی لاگت کمرشل بینک خود برداشت کریں گے اور سمندر پار پاکستانیوں سے اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ بند بیرونی مالی آمد اور نجی سرمایہ کاری میں بہتری کی صورت میں دسمبر 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 20.2 ارب ڈالر تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والے ویزا کارڈ کے مقامی لین دین پر امریکی ڈالر میں کوئی اضافی چارج نہیں ہوگا، جبکہ ایس ایم ایس الرٹ سروس صارفین کی مرضی سے اختیاری رہے گی اور بینک ایپ اور ای میل الرٹس کو فروغ دے رہے ہیں۔
