اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکا نے مسلسل دسویں روز ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات، ریڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے مزید سخت کارروائیوں کی دھمکی دے دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان کے مطابق تازہ کارروائیوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، بحری تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت اور بحرین میں امریکی ریڈار سسٹمز، فضائی دفاعی تنصیبات اور انتظامی مراکز پر حملے کیے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ حملے پہلے سے زیادہ فیصلہ کن اور طاقتور ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں کو بھی روک دیا، جبکہ بعد ازاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ دونوں جہاز دھماکوں کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے عمان کے ساحل کے قریب دو مختلف جہازوں کو نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے، تاہم واقعات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ہر امریکی فوجی کی ہلاکت کا ایران کو کئی گنا جواب دیا جائے گا۔ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
پینٹاگون کے مطابق 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں کم از کم تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے ساتھ بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں، جبکہ ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جہاں وہ پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
