اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس سے متعلق اپنی پانچویں جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کو 2024 کے دوران 7.1 ارب یورو کی برآمدات کے ساتھ اس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جی ایس پی پلس کے تحت دستیاب تجارتی مراعات سے 95 فیصد سے زائد مؤثر استفادہ کیا، جو پروگرام کے کامیاب استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جی ایس پی پلس اسکیم نے پاکستان کی برآمدات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈی تک کم یا صفر ٹیرف پر رسائی دی جاتی ہے، تاہم اس کے لیے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور بہتر طرزِ حکمرانی سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد ضروری ہے۔ برآمدات کے حجم کے اعتبار سے پاکستان دیگر جی ایس پی پلس ممالک، بشمول فلپائن اور سری لنکا، سے آگے رہا۔
یورپی یونین نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے کئی شعبوں میں پیش رفت کو سراہا ہے۔ ان میں سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، انسدادِ تشدد قانون کے تحت قواعد کا نفاذ، مختلف صوبوں میں کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق قوانین، جبری مشقت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے پروٹوکول کی توثیق اور غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو باقاعدہ معیشت کا حصہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ انسدادِ بدعنوانی سے متعلق نئی پالیسیوں کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
تاہم رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو عدالتی خودمختاری، انسانی حقوق کے تحفظ، آزادیِ اظہار، میڈیا کی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مؤثر احتساب کے شعبوں میں مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی طرح چائلڈ لیبر، جبری مشقت، لیبر قوانین پر عمل درآمد اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اداروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات اور معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے اصلاحاتی عمل جاری رکھا، جبکہ یورپی یونین بھی ٹریڈ فار ڈیسنٹ ورک اور ایڈ فار ٹریڈ جیسے پروگراموں کے ذریعے پاکستان کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 2027 میں متوقع نئے جی ایس پی فریم ورک کے نفاذ کے بعد پاکستان کو دوبارہ جی ایس پی پلس حیثیت کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ یورپی یونین کے مطابق اس مقصد کے لیے انسانی حقوق، گورننس، مزدوروں کے تحفظ اور ماحولیاتی اصلاحات پر مسلسل پیش رفت برقرار رکھنا پاکستان کے لیے ناگزیر ہوگا۔
