Trump's teleprompter operator accused of making more than $100,000 by betting on inside information

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) اے بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طویل عرصے سے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر کے طور پر خدمات انجام دینے والے وائٹ ہاؤس کے اہلکار گیبریل پیریز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے صدر کی تقاریر سے متعلق اندرونی معلومات استعمال کرتے ہوئے آن لائن پریڈکشن مارکیٹ میں شرطیں لگائیں اور ایک لاکھ ڈالر سے زائد منافع حاصل کیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے انہیں بغیر تنخواہ انتظامی چھٹی پر بھیج دیا ہے، جبکہ وفاقی ریگولیٹری ادارے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اے بی سی نیوز کے مطابق گیبریل پیریز 2016 سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انہیں اکثر صدر کی تقریروں کے حتمی مسودے تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران  نامی پریڈکشن مارکیٹ پر ٹرمپ کی ایک درجن سے زائد تقاریر سے متعلق شرطیں لگائیں، جہاں صارفین یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ تقریر میں کون سے الفاظ، جملے یا موضوعات شامل ہوں گے۔

تحقیقات کے مطابق کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کو مشکوک ٹریڈنگ کی اطلاع خود کالشی نے دی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ریگولیٹرز کا خیال ہے کہ پیریز نے اپنی ملازمت کے دوران حاصل ہونے والی غیر عوامی معلومات کی بنیاد پر 100 ہزار ڈالر سے زائد مالی فائدہ حاصل کیا۔

کالشی کے سربراہ برائے انفورسمنٹ بابی ڈی نالٹ نے تصدیق کی کہ کمپنی نے مشکوک سرگرمی سامنے آنے پر فوری طور پر معاملہ سی ایف ٹی سی کے حوالے کیا اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو معاملے سے آگاہ کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے خود گیبریل پیریز کو بغیر تنخواہ انتظامی چھٹی پر بھیجنے کی منظوری دی۔ذرائع کے مطابق پیریز نے صرف اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ہی نہیں بلکہ دسمبر کے پرائم ٹائم خطاب، ورلڈ اکنامک فورم سے صدر ٹرمپ کی تقریر، میڈل آف آنر تقریب اور دیگر اہم مواقع پر ہونے والی تقاریر پر بھی شرطیں لگائیں۔

تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض مواقع پر جب صدر ٹرمپ نے تیار شدہ متن سے ہٹ کر خطاب کیا تو پیریز نے دورانِ تقریر اپنی بعض شرطیں واپس لے لیں۔ 

ذرائع کے مطابق گیبریل پیریز نے ریگولیٹرز کے سامنے پیش ہو کر بعض ٹریڈز کا اعتراف بھی کیا۔ بعد ازاں معاملہ نیویارک کے وفاقی پراسیکیوٹرز کو بھی بھیجا گیا، تاہم انہوں نے فوجداری مقدمہ قائم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔