Hamas dissolves Gaza government, agrees to hand over administrative powers to technocrats, announces retention of security control

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں اپنی قائم کردہ انتظامی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ کے بعد کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامی اختیارات امریکا کے حمایت یافتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔ تاہم تنظیم نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی اور پولیسنگ کی ذمہ داری بدستور اس کے پاس رہے گی۔

حماس کی جانب سے جاری اعلان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ جنگ کے بعد کے امن فریم ورک کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم اس پر مکمل عمل درآمد اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔

غزہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماس کے گورنمنٹ میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابۃ نے بتایا کہ گورنمنٹ ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ نگرانی کا پورا حکومتی ڈھانچہ باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ انتظامی ذمہ داریاں نئی کمیٹی کو منتقل کی جا سکیں۔

مجوزہ منصوبے کے مطابق غزہ کا سول انتظام 15 رکنی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کے سپرد کیا جائے گا، جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹس شامل ہوں گے۔ کمیٹی کے چیئرمین علی شعث نے کہا کہ ضروری وسائل اور حالات میسر آنے پر کمیٹی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مؤثر حکمرانی کے لیے ایک ہی انتظامیہ، ایک قانونی نظام اور ہتھیاروں پر متحدہ اختیار ناگزیر ہے۔

اگرچہ حماس نے انتظامی حکومت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تنظیم نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قائم کیے گئے تمام سرکاری محکمے اور وزارتیں بدستور کام کرتی رہیں گی، موجودہ ملازمین اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، جبکہ جن علاقوں پر حماس کا کنٹرول برقرار ہے وہاں سیکیورٹی اور پولیسنگ کی ذمہ داری بھی تنظیم ہی کے پاس رہے گی۔

ادھر امریکی حمایت سے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس نے حماس کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابی کا اندازہ وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے لگایا جائے گا، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے۔

اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی متعدد شقوں، خصوصاً غزہ سے فوجی انخلا سے متعلق وعدوں پر عمل نہیں کیا، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈالتی، اس کی افواج غزہ سے مکمل انخلا نہیں کریں گی۔ دوسری جانب حماس نے بھی واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں مکمل طور پر ختم ہونے تک ہتھیار ڈالنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔