Iran, Oman hold first meeting of Strait of Hormuz Joint Committee, agree to resume talks with US

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد کیا، جبکہ دوسری جانب امریکا اور ایران نے حالیہ کشیدگی کے بعد حملے روکنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ انہوں نے عمان کے وزیر مملکت برائے خارجہ عبدالعزیز الہنائی کے ساتھ خلیجی ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی نظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ادھر امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک نے حالیہ جھڑپوں کے بعد کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور قطر میں متوقع ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی صورتحال، سفارتی کوششوں، سمندری راستوں کی آزادی اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال کیا۔

تاہم حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے۔ ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان یا بڑا نقصان نہیں ہوا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں دوبارہ ہوئیں تو ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ وسیع ہوگا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو مفاہمتی معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید سخت اقدامات کا عندیہ دیا۔

اسی دوران اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف نئی کارروائیوں کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ خطے میں مستقل امن کے لیے لبنان میں بھی جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔