اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو سندھ طاس کے تحت اس کے حصے کے پانی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن اور سلامتی کے لیے سنگین مضمرات کا باعث بن سکتی ہے۔
ویانا میں پاکستان کے سفارتخانے اور ڈپلومیٹک اکیڈمی آف ویانا کے اشتراک سے منعقدہ انٹرنیشنل واٹر سمپوزیم سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ دریائی نظام رکھنے والے ممالک جغرافیے کی وجہ سے مستقل باہمی انحصار میں رہتے ہیں، اس لیے پانی کو تعاون اور متفقہ قانونی فریم ورک کے تحت استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی دباؤ یا محاذ آرائی کے لیے۔
ڈار کے مطابق پاکستان کے لیے آبی تحفظ براہ راست غذائی تحفظ سے جڑا ہے، کیونکہ دریائے سندھ کا نظام ملک میں 25 کروڑ سے زائد افراد کی زندگی اور روزگار کو سہارا دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی پانی زراعت، خوراک، توانائی، معاشی ترقی اور ماحولیاتی نظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کو قانونی ذمہ داریوں کے تحت منظم کیا اور یقین و پیش بینی کا فریم ورک فراہم کیا۔
ان کے مطابق بھارت نے اپریل 2025 میں یکطرفہ طور پر معاہدے کو موقوف قرار دے کر اس اصول کو چیلنج کیا، حالانکہ معاہدے میں کسی فریق کو یکطرفہ طور پر اسے معطل کرنے کی اجازت نہیں۔
ڈار نے 31 اگست کے مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے سندھ طاس معاہدے کو بدستور نافذ العمل قرار دیا اور بھارت کو اس کی ذمہ داریوں کا پابند قرار دیا۔
انہوں نے کہ معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ پاکستان اختلافات کو مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدے کے تحت دستیاب تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈار نے کہا کہ پاکستان پی سی اے کے ویانا دفتر کے تحت جاری نیوٹرل ایکسپرٹ کارروائی میں بھی حصہ لے رہا ہے۔
انہوں نے آگے بڑھنے کے لیے تین بنیادی اصول پیش کیے۔جس میں سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد، تنازعات کو طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی رابطوں، شفافیت اور ڈیٹا شیئرنگ میں اضافہ۔
انہوں نے کہا، تعاون، جبر نہیں؛ مذاکرات، محاذ آرائی نہیں؛ اور قانون کی حکمرانی، یکطرفہ پن نہیں پاکستان کی ترجیح ہے۔
معاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج بنیادی طور پر بھارت جبکہ سندھ، جہلم اور چناب بڑی حد تک پاکستان کے لیے مختص ہیں۔ بھارت نے پی سی اے کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔
