اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) سی این این کی خبر کے مطابق امریکی سینیٹ نے ایران سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے، جسے کانگریس کی جانب سے صدر کی خارجہ اور عسکری پالیسی پر ایک اہم سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔ چار ریپبلکن سینیٹرز رینڈ پال، سوزن کولنز، لیزا مرکوسکی اور بل کیسڈی نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے قرارداد کی مخالفت کی۔
قرارداد میں صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی تنازع میں امریکی افواج کی شمولیت ختم کی جائے۔ اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر صدر پر لازم نہیں اور اسے وائٹ ہاؤس کی منظوری کی ضرورت بھی نہیں، تاہم اسے ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر کانگریس کے بڑھتے ہوئے تحفظات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سینیٹ کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے غلط وقت پر منظور ہونے والی بے معنی قرارداد قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس اقدام سے امریکا کے مخالفین کو فائدہ پہنچا ہے اور ان کے کام کو مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی قرارداد کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگی کارروائیاں جنگ بندی کے بعد ختم ہو چکی ہیں، اس لیے ایسی قرارداد کی کوئی عملی اہمیت نہیں۔
قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف صدر نہیں بلکہ کانگریس کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ ووٹنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران پالیسی پر ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔
