US-Iran talks stalled due to Israeli attacks, Switzerland meeting canceled

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیل کی تازہ فضائی اور توپ خانے کی کارروائیوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے طے شدہ مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا اہم اجلاس بھی منسوخ کر دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے اپنا مجوزہ دورۂ سوئٹزرلینڈ ملتوی کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کے انتظامی اور تکنیکی امور ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے، جس کے باعث وفد کی روانگی روک دی گئی۔

دوسری جانب سوئس وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ برگن اسٹاک میں جمعہ کو متوقع امریکا۔ایران مذاکرات اب طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد نہیں ہوں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ نبطیہ، حاروف، کفر سیر، الشرقیہ، دویر، کفر تبنیت اور دیگر جنوبی علاقوں میں رات بھر شدید بمباری کی گئی۔ متعدد رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک ڈرون حملے میں موٹرسائیکل سوار بھی ہلاک ہوا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائیاں حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں اور یہ مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں کا ردعمل تھیں، تاہم لبنان میں ان حملوں نے خطے میں جاری امن کوششوں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الیکٹرانک طور پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آئندہ 60 روز میں حتمی مذاکرات کا فریم ورک شامل ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ مزید مذاکرات سے قبل معاہدے پر عملی پیش رفت دیکھنا چاہتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی خبردار کیا ہے کہ تہران کسی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی بنیادی قومی پالیسیوں کے خلاف ہو۔