اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائیٹرزکی خبر کے مطابق امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ، ثقافتی تبادلہ پروگراموں میں شریک افراد اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے جاری نئے ضوابط کے تحت پہلی مرتبہ ان ویزوں کے لیے مقررہ مدت کا تعین کر دیا گیا ہے، جبکہ ویزا ہولڈرز پر مزید پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق طلبہ اور ایکسچینج پروگرام ویزوں کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ ویزا رکھنے والے غیر ملکی صحافی زیادہ سے زیادہ 240 دن تک امریکا میں قیام کر سکیں گے۔ چینی صحافیوں کے لیے یہ مدت صرف 90 دن مقرر کی گئی ہے۔ یہ قواعد فیڈرل رجسٹر میں اشاعت کے 60 روز بعد نافذ ہوں گے، تاہم اس سے قبل کانگریس کو ان کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
امریکی حکومت نے گریجویٹ طلبہ کے لیے بھی نئی شرائط متعارف کرائی ہیں، جن کے تحت وہ بغیر اجازت تعلیمی مقصد تبدیل یا کسی دوسرے ادارے میں منتقل نہیں ہو سکیں گے۔ اسی طرح تعلیم یا تربیت مکمل ہونے کے بعد امریکا چھوڑنے کے لیے دی جانے والی مہلت 60 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق 2024 کے دوران امریکا میں 18 لاکھ سے زائد طلبہ ویزوں پر داخل ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں پانچ لاکھ سے زائد ایکسچینج وزیٹرز اور 37 ہزار 300 غیر ملکی صحافیوں کو بھی امریکی ویزے جاری کیے گئے۔ محکمہ کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ان افراد کی نگرانی اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
چین نے امریکی فیصلے کو امتیازی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ نئی پالیسی 2021 میں میڈیا سے متعلق امریکا اور چین کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کی خلاف ورزی ہے اور اس سے امریکی سرزمین پر چینی میڈیا کے معمول کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چین اس فیصلے کے جواب میں مناسب جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
