Turmoil within Republican leadership following Democratic success; Vance blames the Iran war for the defeat.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن جماعت کی شکست کی بنیادی وجہ ایران جنگ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کو سیاسی نقصان پہنچایا۔

 ان کے اس بیان کے بعد 2028 کے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن نامزدگی کے لیے وینس کی ممکنہ پوزیشن پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

وینس نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل بیان میں کہا، ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے۔ صدر نے خود گزشتہ رات یہی کہا تھا۔ ان کا اشارہ ٹرمپ کے اس بیان کی جانب تھا جس میں امریکی صدر نے ایران جنگ کو انتخابی ناکامی کی وجوہات میں شامل تو کیا تھا، تاہم اسے درست فیصلہ بھی قرار دیا تھا۔

نائب صدر نے کہا کہ اگر کوئی یہ مؤقف رکھتا ہے کہ ایران جنگ اس قیمت کے قابل تھی کہ ری پبلکنز اگلے چھ برس کے لیے سینیٹ سے محروم ہو جائیں تو اسے کھل کر اس دلیل کا دفاع کرنا چاہیے۔

 ان کے بقول، ہر کوئی جانتا ہے کہ ہم کیوں ہارے، اور مستقبل کے بارے میں کوئی بھی دیانت دارانہ گفتگو اسی حقیقت سے شروع ہونی چاہیے۔

وینس ماضی میں بیرون ملک امریکی فوجی مداخلت کے ناقد رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ پس پردہ ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے۔ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے اواخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے متعدد امریکی شہری 2026 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی حمایت کر گئے۔

 ان کے مطابق ایک ایسے پولسٹر نے، جس پر انہیں اعتماد ہے، بتایا کہ ایران جنگ اور معیشت ووٹرز کی ناراضی کی اہم وجوہات تھیں۔ اس کے علاوہ بعض ووٹرز امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں تبدیلی بھی چاہتے تھے۔

دوسری جانب سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا کہ ایران جنگ ختم ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹس حکومتی اخراجات کی منظوری کے اختیار کو استعمال کرکے صدر پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

 شومر نے اسے ایسے صدر کو روکنے کا ایک طریقہ قرار دیا جو امریکی عوام کی رضامندی کے بغیر جنگ کرتا ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے ری پبلکنز کی بھاری انتخابی شکست کے ایک روز بعد سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ پیغام جاری کیا کہ عوامی اطلاع : ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔

 تصویر میں ٹرمپ اوول آفس میں ریزولوٹ ڈیسک کے پیچھے سنجیدہ انداز میں بیٹھے دکھائی دیے۔ پوسٹ میں صدر کا وہ جملہ بھی استعمال کیا گیا جو وہ اکثر اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں لکھتے ہیں۔

منگل کے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ اس نتیجے سے انہیں قانون سازی، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات اور صدارتی تقرریوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار مل گیا ہے۔

انتخابی نتائج کو مہنگائی، ٹیرف پالیسی اور ایران جنگ کے خلاف عوامی ناراضی کا اظہار قرار دیا گیا، کیونکہ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور پہلے سے موجود معاشی دباؤ مزید بڑھ گیا۔

 تاہم ٹرمپ نے صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کانگریس میں اکثریت کے باوجود ڈیموکریٹس کس حد تک اپنے ایجنڈے پر عمل کر سکیں گے۔