No change in Tehran’s stance even after US elections; Mojtaba Khamenei’s message to Washington

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی پالیسی میں تبدیلی کی امید رکھنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا میں سیاسی جماعتوں یا قیادت کی تبدیلی سے ایران کے خلاف اس کے رویے میں بنیادی فرق آنے کی توقع رکھنا بڑی غلط فہمی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری تحریری بیان میں کہا کہ جو لوگ اب بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ امریکا کے اندر جماعتی یا دھڑوں کی تبدیلی سے اس کے بالادستی کے نظام کا رویہ بدل جائے گا، وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔

 ان کے مطابق یہ سوچنا بھی درست نہیں کہ امریکا کو رعایتیں دینے سے ایرانی قوم کے خلاف اس کی دشمنی ختم ہو سکتی ہے۔

ان کا یہ بیان امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد جاری ہوا، جن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

 انتخابی نتائج کو امریکی عوام کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیرف پالیسی اور ایران کے خلاف جنگ پر ناراضی کا اظہار قرار دیا گیا ہے۔ جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جنگ دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد حالیہ دنوں میں امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں نے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو جنگ کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہو جائے گا۔

 ان کا کہنا تھا کہ کسی نئی کارروائی کے نتائج پہلے سے کہیں زیادہ بڑے ہو سکتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں اقتدار سنبھالا تھا، تاہم اس کے بعد سے وہ اب تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ ان کے بیانات تحریری طور پر جاری کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی انتخابات پر ردعمل دیا تھا۔

 انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی عوام نے اپنے ضمیر یا مہنگائی کے بوجھ کے تحت جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ایران اس پیغام کی تائید کرتا ہے۔