اردو انٹرنیشنل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور اس علاقے کے لیے امریکی قبضے کی تجویز بھی دی ہے۔ غزہ میں اس وقت اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی نازک صورت حال سے دوچار ہے، جس کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ٹرمپ نے حالیہ ہفتے میں بیان دیا تھا کہ حماس کو ہفتے کی دوپہر تک تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دینا چاہیے، ورنہ سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "اگر یہ مجھ پر منحصر ہوتا تو میں بہت سخت مؤقف اختیار کرتا، لیکن میں نہیں بتا سکتا کہ اسرائیل کیا کرنے جا رہا ہے۔”

ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے سے کچھ دن پہلے غزہ میں جنگ بندی نافذ کی گئی تھی۔ اس دوران، حماس نے کچھ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جس کے بدلے میں اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو چھوڑا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ان قیدیوں اور یرغمالیوں کی تصویریں دیکھ کر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تصاویر ان سخت حالات کی عکاسی کرتی ہیں جن میں انہیں رکھا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے جمعے کے روز صرف اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر بات کی اور فلسطینی قیدیوں یا عام شہریوں کی حالت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، کیونکہ امریکہ کے سخت مؤقف کے باعث اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔