اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف جوہری حملے کے امکان پر غور کر سکتی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ چند دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔
کارلسن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو ایران کے پیکیکس ماؤنٹین نامی مقام کو نشانہ بنانے کے لیے ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
کارلسن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے خیال میں ایران نے اس مقام پر یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تنصیب تقریباً 300 فٹ گہرے گرینائٹ کے نیچے واقع ہے، جسے روایتی ہتھیاروں سے نشانہ بنانا مشکل ہے۔
اسی بنیاد پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی قیادت جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر زور دے رہی ہے۔
کارلسن نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے کہا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر ٹرمپ سے روزانہ رابطہ کرتے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اپنی سیاسی بقا کے لیے بھی امریکی حمایت چاہتے ہیں، کیونکہ انہیں اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی پارلیمنٹ میں 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے، بصورت دیگر انہیں تحقیقات اور ممکنہ قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
صحافی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
کارلسن کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی اسرائیلی مؤقف سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے دوحہ میں تیار کردہ مسودے کی مخالفت کا دعویٰ بھی کیا۔
کارلسن نے کہا کہ نیتن یاہو نے 27 ستمبر کو ابوظہبی کا خفیہ دورہ کرکے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی۔ ان کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے تنازع نے خلیجی معیشتوں، توانائی اور کھاد کی عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں اکتوبر کے دوران تقریباً 850 تیل بردار جہازوں میں سے 11 کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا۔
کارلسن نے خبردار کیا کہ خلیج میں جوہری دھماکے سے پانی آلودہ ہونے اور خطے میں تقریباً 10 کروڑ افراد کو خطرہ لاحق ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔
ان کے بقول ایسا اقدام روس، یوکرین، بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری کشیدگی اور شمالی کوریا کے معاملے پر بھی خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جوہری حملے کے بعد تیسری عالمی جنگ کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے جوہری حملے کی منظوری یا حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے حساس منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ مارکو روبیو نے کہا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے 16 اکتوبر کو نیوزمیکس کو انٹرویو میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔ ایران بھی اس مقام پر جوہری سرگرمیوں کی تردید کر چکا ہے۔
