Security concerns rise after British Navy drones send data to China

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی ٹیلیگراف نے اپنی خبر میں انکشاف کیا ہے کہ برطانوی رائل نیوی کے زیر استعمال بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والے بحری ڈرونز میں چینی ساختہ کیمروں کے پرزوں کی موجودگی اور چین میں موجود ایک آئی پی ایڈریس کو ڈیٹا بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد برطانوی وزارت دفاع نے کیمروں کی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی ختم کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کے3سکاوٹ ڈرونز کے کیمروں سے ہارٹبیٹ کمیونیکیشن نامی سگنلز چین میں موجود ایک آئی پی ایڈریس کو بھیجے جا رہے تھے۔ یہ سگنلز بنیادی طور پر اس بات کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتے ہیں کہ ڈیوائس آن لائن اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ تاہم برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران حساس فوجی معلومات یا وزارت دفاع کے نظام کے بیرون ملک منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تقریباً 12 ملین پاؤنڈ مالیت پر مشتمل کے-3 سکاوٹ فلیٹ مارچ سے رائل میرینز استعمال کر رہی ہے۔ یہ ڈرونز برطانوی دفاعی کمپنی کراکین ٹیکنالوجی گروپ نے فراہم کیے تھے، جس نے کیمرے ایک تیسرے فریق سے حاصل کیے تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کیمروں میں بعض پرزے برطانیہ سے باہر کے ملکوں سے حاصل کیے گئے تھے، تاہم مکمل آڈٹ کے بعد اسے یقین ہے کہ کوئی حساس معلومات غیر مجاز طور پر منتقل نہیں ہوئی اور ممکنہ سیکیورٹی کمزوریوں کو دور کردیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ کے-3 سکاوٹ ڈرونز کو برطانوی اسپیشل فورسز سے متعلق حساس سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا گیا۔ ایک دفاعی ذریعے کے مطابق یہ ڈرونز مستقبل میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے سے متعلق برطانیہ کے مجوزہ دفاعی پیکیج کا حصہ تھے۔

برطانوی وزارت دفاع نے کہا کہ معمول کے سائبر سیکیورٹی جائزے کے دوران ڈرون کے ایک ذیلی نظام میں ممکنہ کمزوری سامنے آئی، جس کے بعد تحقیقات کی گئیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس کے ڈیٹا یا نظام تک غیر مجاز رسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں چینی ٹیکنالوجی اور دفاعی سپلائی چین سے متعلق خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔ برطانیہ نے 2020 میں ہواوے کو 5 جی نیٹ ورک سے خارج کیا تھا، جبکہ گزشتہ ماہ اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹر میں چینی ساختہ برقی گاڑیوں پر بھی پابندی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔