Renewed tension at the Pak-Afghan border; alleged Taliban operation thwarted, several personnel killed.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر گلسٹن سیکٹر میں افغان طالبان جنگجوؤں کی مبینہ حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی میں کئی طالبان اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان جنگجوؤں نے سرحدی علاقے میں کارروائی کی کوشش کی، جس پر پاکستانی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے حملہ پسپا کردیا اور حملہ آوروں کو جانی نقصان پہنچایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ پاکستانی فورسز سرحد پر مکمل طور پر چوکس اور الرٹ رہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائیاں کی تھیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق کارروائیوں میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے تنصیبات، دہشت گردوں کے ٹھکانے اور معاون انفرااسٹرکچر موجود تھا۔ پاکستان نے ان کارروائیوں کو محدود، درست، متناسب اور براہ راست حملوں سے منسلک قرار دیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے افغان سرزمین سے داخل ہونے والے 8 ڈرونز بھی مار گرائے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 4 ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ مزید 4 کوہاٹ کے قریب پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔

عطا تارڑ نے کہا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور امن، مذاکرات اور تعمیری رابطے کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس پالیسی کو کمزوری یا لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور افغان طالبان کی جانب سے مزید اشتعال انگیز کارروائی کا مضبوط جواب دیا جائے گا۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ 2021 میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار دہشت گردی کے واقعات بڑھے ہیں۔ پاکستان بارہا کابل سے افغان سرزمین کو عسکریت پسند گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان نے فروری 2026 میں آپریشن غضب للحق شروع کیا تھا۔ متعدد مذاکرات کے باوجود سرحد پار موجود عسکریت پسند گروہوں کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان اہم تنازع برقرار ہے۔