Putin lashes out at the West at BRICS summit; every tactic is being used to wrest back global leadership Putin.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی ممالک اپنی سابقہ عالمی بالادستی دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی ذریعے کا استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس میں ان کے بقول ناپسندیدہ اور سخت اقدامات بھی شامل ہیں۔

پیوٹن نے جمعہ کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں برکس بزنس فورم کے ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر کاروباری کامیابی کے پیچھے روزانہ کی محنت اور شدید مسابقت ہوتی ہے، تاہم موجودہ دور میں یہ مسابقت بعض اوقات ریاستی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ دنیا کو مسلسل بتایا جاتا رہا ہے کہ مسابقت ایک مقدس گائے ہے جسے چھیڑا نہیں جانا چاہیے، لیکن ان کے مطابق مغربی حریف اب اپنی سابقہ عالمی قیادت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کسی بھی ذریعے کو استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسابقت بعض اوقات ناخوشگوار شکل اختیار کرلیتی ہے اور اس کے اثرات ریاستی سطح پر بھی نظر آتے ہیں۔

پیوٹن کے مطابق ان اقدامات میں صنعتی اور لاجسٹک تنصیبات، پائپ لائنز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے خلاف براہ راست کارروائی یا انہیں تباہ کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداریوں کو روکنے اور بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ ان اقدامات کے ساتھ غیرقانونی پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں اور ان ممالک کو ثانوی پابندیوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جو دوسروں کے مفادات کے بجائے اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتے ہیں۔

پیوٹن کے مطابق روس پر اب تک 30 ہزار سے زائد پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جو ان کے دعوے کے مطابق دنیا کے تمام دیگر ممالک پر عائد پابندیوں کی مجموعی تعداد سے تقریباً دو گنا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے باوجود روس نے اپنی قومی خودمختاری مضبوط کی اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کیے ہیں۔

پیوٹن نے کہا کہ برکس تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

روسی صدر جمعہ کو تین روزہ دورے پر بھارت پہنچے، جہاں وہ ہفتہ اور اتوار کو ہونے والے 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔