Protests that started with paper leaks turn into political crisis, Rahul Gandhi arrested, demands for Modi's resignation

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق بھارت میں میڈیکل داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر شروع ہونے والا طلبہ احتجاج اب ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ منگل کو کانگریس رہنما اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، ان کی بہن پریانکا گاندھی اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

راہول گاندھی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ طلبہ پر پولیس تشدد کے بعد وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نہ اس معاملے پر جوابدہی کے لیے تیار ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرانا چاہتی ہے۔

یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک روز قبل نئی دہلی میں ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے لیے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے۔ دہلی پولیس کے مطابق زخمیوں میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل تھے، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی  نے واضح کیا ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفے تک دھرنا جاری رہے گا۔ تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے کارکنوں سے کہا کہ وہ حکومتی دباؤ سے مرعوب نہ ہوں۔ ان کے بقول، وہ ہمارے حوصلے توڑنا چاہتے ہیں، لیکن ہم خاموش نہیں ہوں گے۔

تحریک کے رہنما آشوتوش رانکا نے بھی اعلان کیا کہ احتجاج اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک دھرمیندر پردھان کو عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والا سلوک بھارتی جمہوریت کے لیے شرمناک ہے۔