اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوزکی خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ ہفتے ایران جانے اور سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم ایران کے دورے کے بعد ترکیہ بھی جائیں گے، جہاں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر اعلیٰ سطح کے رابطے متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات جولائی کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوں گی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تین روزہ تعزیتی تقریبات تہران میں، ایک تقریب قم میں جبکہ 9 جولائی کو ان کی تدفین آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے آغاز میں تہران میں ہونے والے ایک حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کے خاندان کے متعدد افراد بھی شہید ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ علی خامنہ ای حملے میں زخمی ہوئے لیکن محفوظ رہے اور بعد ازاں انہیں سپریم لیڈر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، تاہم وہ اب تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے متوقع دورۂ ایران کو پاکستان اور ایران کے حالیہ بہتر ہوتے تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ ایران۔امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کیں، جنہیں واشنگٹن اور تہران دونوں نے مختلف مواقع پر سراہا۔
ذرائع کے مطابق ایران کے بعد وزیراعظم ترکیہ کا بھی دورہ کریں گے۔ ترکیہ ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ایران جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے اقدامات کی حمایت کی۔
متوقع دوروں کے دوران پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن، اقتصادی تعاون، تجارتی روابط اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ ملاقاتیں خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔
