اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پیر کے روز اپنی سیاسی مستقبل سے متعلق اہم اعلان کر سکتے ہیں، جبکہ لیبر پارٹی کے اندر قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسٹارمر گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اس بات پر غور کرتے رہے کہ آیا وہ پارٹی قیادت کے لیے ممکنہ چیلنج کا مقابلہ کریں یا منظم انداز میں اقتدار کی منتقلی کا راستہ اختیار کریں۔
یہ دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے پارلیمانی ضمنی انتخاب میں واضح کامیابی حاصل کرتے ہوئے نائجل فراج کی ریفارم یو کے جماعت کے امیدوار کو شکست دی۔ اس کامیابی نے لیبر ارکان پارلیمنٹ میں یہ امید پیدا کی ہے کہ برنہم پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو دوبارہ بحال کر سکتے ہیں۔
دو سال سے بھی کم عرصہ قبل کیئر اسٹارمر نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ میں سیاسی استحکام کا وعدہ کیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں ان کی مقبولیت مسلسل کم ہوئی ہے اور رائے عامہ کے جائزوں میں ان کے اعداد و شمار کسی بھی موجودہ برطانوی رہنما کے مقابلے میں کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
اگرچہ اینڈی برنہم کو ایک مؤثر مقرر اور تجربہ کار سیاست دان سمجھا جاتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک خارجہ پالیسی، معیشت اور دفاع جیسے اہم معاملات پر اپنی مکمل حکمت عملی واضح نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ کو اس وقت بلند قرضوں، کمزور معاشی نمو، بڑھتے اخراجات اور دفاعی ضروریات جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس وقت جی سیون ممالک میں سب سے زیادہ قرض لینے کی لاگت برداشت کر رہا ہے، جبکہ مالیاتی منڈیوں کا دباؤ نئی حکومت کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ سٹی بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر برنہم اقتدار سنبھالتے ہیں تو انہیں ایک نازک مالی صورتحال ورثے میں ملے گی جہاں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے محدود وسائل دستیاب ہوں گے۔
کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف باضابطہ قیادت کا مقابلہ ہوا تو وہ اس میں حصہ لیں گے۔ سابق وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہیں لیبر کے 81 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے جو قیادت کی دوڑ میں حصہ لینے کے لیے درکار ہے۔
