اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کا آغاز ہوگیا، جس میں 57 رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے 190 سے زائد وزرا، اعلیٰ حکام، بین الاقوامی اداروں کے نمائندے اور ترقیاتی شراکت دار شریک ہیں۔ دو روزہ کانفرنس جناح کنونشن سینٹر میں او آئی سی ممالک میں خواتین کا سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار بنانا چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل کے عنوان سے منعقد کی جا رہی ہے۔
کانفرنس میں خواتین کی تعلیم، معاشی خودمختاری، سیاسی نمائندگی، روزگار، فیصلہ سازی میں کردار اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ شرکاء او آئی سی کے پلان آف ایکشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف ویمن کا بھی جائزہ لیں گے جبکہ اجلاس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں خواتین کی ترقی اور بااختیار بنانے سے متعلق مشترکہ سفارشات شامل ہوں گی۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد او آئی سی دنیا کا دوسرا بڑا کثیرالجہتی فورم ہے اور اس کانفرنس کی میزبانی پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مصر سے آئندہ دو برس کے لیے او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی چیئرمین شپ بھی سنبھالے گا۔
کانفرنس کے موقع پر مختلف رکن ممالک کے درمیان خواتین کے حقوق، استعداد کار میں اضافے، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس کے مرکزی اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اجلاس مسلم دنیا میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
