NATO more united than ever, differences are our democratic strength Mark Rutte

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون  کی خبر کے مطابق نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اتحادی رہنماؤں کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات نیٹو اتحاد کی کمزوری نہیں بلکہ جمہوری نظام کی طاقت کی علامت ہیں، اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی اس سے یہی پیغام ملنا چاہیے۔

انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ جمہوری ممالک میں مختلف امور پر اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے، تاہم اہم معاملات پر تمام اتحادی مشترکہ مقصد اور اجتماعی دفاع کے لیے متحد ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، پیوٹن نے دیکھا کہ اتحادی بعض اوقات اختلاف کرتے ہیں، بحث بھی ہوتی ہے، لیکن آخرکار وہ ایک مشترکہ مؤقف پر متفق ہو جاتے ہیں۔ یہی جمہوری معاشروں کی اصل طاقت ہے، جو انہیں روس، چین اور ایران جیسے ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔

مارک روٹے نے صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی رہنما کے اچھے اقدامات کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ اختلاف کی صورت میں بھی معاملات کو اتحاد کے اندر رہتے ہوئے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ نیٹو کی یکجہتی متاثر نہ ہو۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات، ایران کی صورتحال اور گرین لینڈ سے متعلق اپنے مؤقف کو دوبارہ دہرایا، جس سے اتحادی ممالک کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی سامنے آئے۔ تاہم اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ نیٹو اتحاد کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہیں اور 32 رکن ممالک کے درمیان مضبوط اتحاد اور باہمی اعتماد موجود ہے۔

مارک روٹے نے کہا کہ روس اب بھی نیٹو رکن ممالک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی تناظر میں 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد اتحادی ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اربوں ڈالر کے نئے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے کے باوجود مشترکہ فیصلوں پر متحد ہونا ہی نیٹو کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور یہی اتحاد مستقبل میں بھی یورپ اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے بنیادی کردار ادا کرے گا۔