Major change in NACTA leadership, NACTA command handed over to Major General Faisal Naseer for 3 years

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے نظام میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے اہم افسر میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا قومی رابطہ کار مقرر کردیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جمعہ کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر، ہلال امتیاز (ملٹری)، تمغہ بسالت اور بار کو وفاقی حکومت کی منظوری سے نیکٹا کا قومی رابطہ کار مقرر کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر تین سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے اور تقرری فوری طور پر نافذالعمل ہوگی۔ ان پر معمول کی شرائط و ضوابط لاگو ہوں گے اور وہ مزید احکامات تک اس ذمہ داری پر برقرار رہیں گے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک عہدیدار کے مطابق سول افسر کی ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں منتقلی عموماً ڈیپوٹیشن کے ذریعے ہوتی ہے، جبکہ حاضر سروس فوجی افسر کو دوسرے ادارے میں سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر تعینات کیا جاتا ہے۔

نیکٹا کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ کچھ عرصے سے یہ تجویز زیر غور تھی کہ انسداد دہشت گردی کی اتھارٹی کی سربراہی کسی تجربہ کار فوجی یا انٹیلی جنس افسر کے سپرد کی جائے۔ ان کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی کا مقصد ادارے میں زیادہ اسٹریٹجک اور آپریشنل تجربہ لانا ہوسکتا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران نیکٹا کے تحت نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر، سمیت مختلف اقدامات کیے گئے، تاہم ان کے حوالے سے اختیارات کے ارتکاز اور جمہوری نگرانی کے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

نیکٹا کی قیادت بھی مسلسل تبدیل ہوتی رہی ہے۔ ادارے کے قیام سے اب تک ایک درجن سے زیادہ قومی رابطہ کار مقرر ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے افسران کی رہی ہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری اس روایت سے ایک نمایاں تبدیلی ہے۔

میجر جنرل فیصل نصیر 2022 سے آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلی جنس کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی ملنے کے کچھ ہی عرصے بعد یہ ذمہ داری دی گئی تھی۔