Kot Radha Kishan case Supreme Court acquits 3 death row convicts

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 2014 کے کوٹ رادھا کشن کیس میں سزائے موت پانے والے مزید 3 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا، جبکہ عدالت نے کیس میں پہلے بری کیے گئے 102 دیگر افراد کے خلاف ریاست کی اپیل بھی مسترد کردی۔

جسٹس شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے، جس میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد شامل تھے، ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ 26 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا، بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔

یہ اپیلیں لاہور ہائیکورٹ کے 16 مئی 2019 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں، جس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 23 نومبر 2016 کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

عدالت نے فیصلے میں واقعے کو انتہائی ہولناک اور سفاکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرم کی سنگینی اپنی جگہ، تاہم قابل اعتماد شواہد کے بغیر کسی شخص کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

سپریم کورٹ نے ملزمان کی بریت کی بنیادی وجہ استغاثہ کے شواہد میں موجود تضادات کو قرار دیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ مقتولین کے کسی قریبی رشتہ دار نے مقدمے میں مدعی کا کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی ان کے رشتہ داروں نے کسی گواہ کے طور پر مقدمے کی دستاویزات پر دستخط کیے۔

عدالت کے مطابق یہ صورتحال اس امر پر سوال اٹھاتی ہے کہ مقتولین سے متعلق دعویٰ کیے گئے عینی شاہدین واقعے کے وقت موقع پر موجود بھی تھے یا نہیں۔ ایک ملزم، جسے گواہوں نے مبینہ طور پر متاثرین کو بھٹی میں پھینکنے والا واحد شخص قرار دیا تھا، کا نام بھی ایف آئی آر میں درج نہیں تھا۔

عدالت نے اسے ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر گواہوں نے پولیس کو اس شخص کا نام بتایا تھا تو ایف آئی آر میں اس کا نام شامل نہ ہونا ایک اہم تضاد ہے۔ عدالت نے ملزمان کے خلاف آزادانہ تائید کی کمی کو بھی اہم قرار دیا۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان میں سے کسی کے جسم پر جلنے کے نشانات نہیں ملے اور نہ ہی وہ لکڑی کے حفاظتی جوتے یا گیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے جو بھٹی کے قریب جانے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس بنا پر عدالت نے ان کے ملوث ہونے پر معقول شک قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ شک کا فائدہ ملزم کا حق ہے، رعایت نہیں۔ عدالت کے مطابق اگر شواہد میں صرف ایک ایسا پہلو بھی موجود ہو جو ملزم کے جرم کے بارے میں معقول شک پیدا کرے تو اسے بری کیا جانا چاہیے، چاہے جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔

عدالت نے تینوں ملزمان کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا۔ ساتھ ہی 102 دیگر افراد کی بریت کے خلاف ریاستی اپیل بھی خارج کردی.