Honor killings of women from Islamabad to Rawalpindi, 3,172 incidents of gender-based violence reported in 6 months

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی اور ٹیکسلا میں حالیہ دنوں خواتین کے قتل کے تین واقعات نے ایک بار پھر پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد، جبری فیصلوں، نام نہاد خاندانی عزت اور ذاتی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تینوں واقعات کی نوعیت مختلف ہے، تاہم ان میں ایک مشترک پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ خواتین کو اپنے فیصلوں، طرز زندگی یا خاندانی معاملات پر اختلاف کی صورت میں انتہائی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد کے تھانہ نیلور کے علاقے کرپا میں حنا ظریف کو مبینہ طور پر اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ اپنی مرضی کے خلاف کی گئی شادی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے قانونی طریقے سے عدالت سے خلع حاصل کرچکی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق حنا کے والد انہیں لاہور سے اسلام آباد لائے تھے۔ اہل خانہ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، تاہم گھر پہنچنے کے بعد ہی وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ واقعے نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ خاندانی دباؤ سے نکلنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے والی خواتین کو عملی طور پر کس قدر تحفظ حاصل ہے۔

دوسرا واقعہ 14 اگست کو ٹیکسلا کے مارگلہ بائی پاس کے قریب پیش آیا جہاں ٹک ٹاکر عائشہ گلامنہ کو قتل کردیا گیا۔ ابتدائی طور پر مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا اور کچھ افراد کو نامزد کیا گیا، تاہم پولیس کی تفتیش میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ عائشہ کے خاندان کو اس کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر اعتراض تھا۔ تفتیشی معلومات کے مطابق قتل کی منصوبہ بندی لوئر دیر میں کیے جانے کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کے اصل محرکات اور ذمہ داروں کے بارے میں حتمی صورتحال واضح ہوگی۔

20 اگست کو راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں حنا جاوید کو مبینہ طور پر اس کے شوہر نے اپنے والد اور ایک گھریلو ملازم کے ساتھ مل کر قتل کردیا۔ مقتولہ کے بھائی کے مطابق حنا کی لاش گھر کے باتھ روم سے ملی، اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ منہ پر کپڑا موجود تھا اور منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور پولیس شواہد کی روشنی میں قتل کے محرکات اور ملوث افراد کا تعین کررہی ہے۔

ساحل کی جنوری سے جون 2026 کی رپورٹکے مطابق پاکستان بھر میں صنفی تشدد کے 3,172 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 644 قتل، 514 تشدد، 462 اغوا، 363 خودکشیاں، 280 زیادتی، 175 زخمی کرنے کے واقعات اور 132 غیرت کے نام پر قتل شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق 74 فیصد کیسز پنجاب اور 17 فیصد سندھ میں رپورٹ ہوئے، جبکہ 6 فیصد خیبر پختونخوا اور 3 فیصد بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے سامنے آئے۔ حیران کن طور پر 54 فیصد واقعات متاثرہ خواتین کے اپنے گھروں میں پیش آئے، جبکہ 27 فیصد واقعات میں مبینہ ملزمان متاثرین کے جاننے والے اور 13 فیصد میں شوہر تھے۔ رپورٹ میں راولپنڈی سمیت فیصل آباد، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، قصور، رحیم یار خان، کراچی، وہاڑی اور سیالکوٹ کو خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے 10 زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل کیا گیا ہے۔