اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات پاکستان نے دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں تک پانی کی بلند سطح برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں اور برساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 22 سے 24 جولائی کے دوران طاقتور مون سون سسٹم اور مغربی ہواؤں کے امتزاج سے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بعض مقامات پر شدید بارش، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق دریائے چناب کے بالائی کیچمنٹ میں شدید بارشوں کے باعث مرالہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کھنکی اور قادرآباد کے مقامات پر بھی آئندہ 10 سے 18 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا امکان ہے۔ اگر بارشوں کی شدت میں کمی برقرار رہی تو دریائے چناب میں پانی کی سطح بتدریج کم ہونا شروع ہو جائے گی۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بھی مون سون کی دوسری لہر کے پیش نظر دریا کنارے آباد آبادیوں کو الرٹ رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ادارے کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دریائے راوی، ستلج اور جہلم میں پانی کی صورتحال فی الحال معمول کے مطابق ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ پر ایک لاکھ 28 ہزار، کھنکی پر ایک لاکھ 52 ہزار اور قادرآباد پر ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ارسا کے مطابق مختلف بیراجوں سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 91 ہزار 900 کیوسک پانی چھوڑا گیا، جب کہ پانی کی مجموعی آمد 5 لاکھ 97 ہزار 500 کیوسک رہی۔
اسی دوران تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1514.11 فٹ اور منگلا ڈیم میں 1181.60 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو دونوں ڈیموں کی ڈیڈ لیول سے کافی زیادہ ہے۔
محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے اور ارسا نے واضح کیا ہے کہ دریاؤں کی صورتحال، بارشوں اور پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
