Did speaking up for Gaza come at a cost UN agency official's contract terminated after 26 years.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے کے سینئر عہدیدار بین ڈیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید اور فلسطینیوں کی صورتحال پر آواز اٹھانے کے باعث 26 سال بعد ان کا کنٹریکٹ مزید تجدید نہیں کیا گیا۔

ڈیوس کے مطابق انہیں جولائی میں بتایا گیا کہ ان کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید آگے نہیں بڑھایا جائے گا، جبکہ اس کی وجہ ادارے کے غیرجانبداری کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی بتائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ان پر روم میں قائم ایف اے او کے بعض ملازمین کی جانب سے غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال پر کیے جانے والے ہفتہ وار خاموش احتجاج منظم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ڈیوس کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں ایک وقت میں سیکڑوں ملازمین شریک ہوتے تھے، تاہم اب ہر ہفتے تقریباً 30 سے 40 افراد شرکت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ غزہ میں خوراک کی دستیابی اور انسانی قانون سے متعلق ایک رپورٹ پر بھی کام کرچکے ہیں، جو مئی میں شائع ہوئی تھی۔ ڈیوس کا کہنا ہے کہ انہیں رپورٹ ہٹانے کا کہا گیا اور اس میں انسانی قانون کے حوالے شامل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دوسری جانب ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے منگل کو ایک ریکارڈ شدہ اجلاس کے آغاز پر ادارے کے ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے او میں انسانی حقوق کا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق اہم ہیں، لیکن اس کیلئے جنیوا میں متعلقہ ادارہ موجود ہے۔ ان کے مطابق ادارے کے آئین اور ملازمین کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

کو ڈونگ یو نے مزید کہا کہ وہ ضرورت پڑنے پر مزید ملازمین کو بھی ملازمت سے فارغ کرسکتے ہیں۔ ایف اے او نے ڈیوس کے دعووں اور ڈائریکٹر جنرل کے بیان پر تبصرے کیلئے بھیجے گئے سوالات کا فوری جواب نہیں دیا۔

ڈیوس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تنقید براہ راست ان کے بارے میں تھی اور وہ مزید برطرفیوں کے بیان پر فکرمند ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں 74 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ ان اعدادوشمار کو قابلِ اعتماد قرار دے چکا ہے۔