Canada imposes 50% duty on US products in response to Trump's tariffs

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر  کے مطابق کینیڈا نے امریکا کے ساتھ جاری 18 ماہ پرانے تجارتی تنازع میں بڑا جوابی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی مصنوعات پر نئے ٹیرف نافذ کردیے ہیں۔

وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کی جانب سے عائد کردہ جوابی ٹیرف منگل کی نصف شب کے فوراً بعد نافذ ہوئے، جن کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا کو نئی درآمدی ڈیوٹی کا سامنا ہوگا۔

نئے ٹیرف کی شرح مختلف مصنوعات پر 15 فیصد سے 50 فیصد تک ہے اور اس میں اسٹیل، فرنیچر، کپڑے اور الیکٹرانکس سمیت متعدد اشیا شامل ہیں۔

یہ اقدام گزشتہ ماہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے کو اس معاہدے کے ناکام ہونے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جو کچھ عرصہ قبل طے پاتا دکھائی دے رہا تھا۔

کینیڈین ایگرو فوڈ ٹریڈ الائنس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور کارنی کی دوطرفہ اقتصادی تعلقات سے متعلق مشاورتی کمیٹی کے رکن مائیکل ہاروی نے خدشہ ظاہر کیا کہ صورتحال ایک ’جارحانہ اضافے کے چکر‘ میں داخل ہوسکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف ذرائع تلاش کرنا ضروری بھی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کو مزید 10 سال کے لیے توسیع دینے سے انکار کردیا ہے اور اب یہ سالانہ جائزے کے مرحلے میں ہے۔

گزشتہ ماہ امریکا کے عائد کردہ ٹیرف نے کینیڈین شراب، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، کپڑے، فشنگ راڈز اور ہاکی کے سامان سمیت متعدد شعبوں کو متاثر کیا تھا۔

ان امریکی ٹیرف کا حجم تقریباً 20 ارب ڈالر، یعنی کینیڈا کی امریکا کو مجموعی برآمدات کا 5 فیصد بنتا ہے۔

کینیڈین اور امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کینیڈا کی تقریباً 68 فیصد مجموعی برآمدات امریکا کو بھیجی گئی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد تجارت یو ایس ایم سی اے کے تحت استثنیٰ کی وجہ سے ڈیوٹی فری رہی ہے۔