Another major resignation in the Trump administration, Army Secretary Driscoll resigns

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوزکی خبر کے مطابق امریکی فوج میں اعلیٰ سطح پر ایک اور اہم تبدیلی سامنے آگئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈرِسکول نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت محکمہ دفاع کے سربراہ پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ان کے مبینہ اختلافات اور کشیدگی کی اطلاعات کے بعد ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پرنسپل ڈپٹی پریس سیکریٹری اینا کیلی نے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بارے میں سوال پر استعفے کی تردید نہیں کی۔ انہوں نے ڈرِسکول کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ محکمہ فوج میں صدر ٹرمپ کے ایجنڈے میک امریکا اسٹرونگ اگین کو آگے بڑھانے میں انتہائی مؤثر رہے۔

کیلی کے مطابق ڈرِسکول نے امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران بہترین قیادت فراہم کی، فوج کی تیاری اور جنگی صلاحیت پر توجہ بحال کرنے میں کردار ادا کیا اور روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں بھی معاونت کی۔

مزید پڑھیں : ٹرمپ کی مقبولیت تاریخی نچلی سطح پر، ایران جنگ اور مہنگائی نے ریپبلکنز کو خطرے میں ڈال دیا 

انہوں نے کہا کہ کمانڈر اِن چیف اور سیکریٹری آف وار کے ساتھ ڈرِسکول کے کام کے نتیجے میں امریکی فوج پہلے سے زیادہ طاقتور ہوئی ہے۔

اگر استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کرلیا جاتا ہے تو یہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ میں کسی اعلیٰ فوجی عہدیدار کی تازہ ترین رخصتی ہوگی۔ ڈرِسکول امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سابق لا اسکول ہم جماعت بھی رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق انتظامیہ میں ان کی دوستی سے بھی فائدہ اٹھاتے رہے، تاہم بعد میں ان کے اور ہیگستھ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سب سے سینئر ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے ڈرِسکول کے استعفے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کی۔

ریڈ نے کہا کہ وہ ڈرِسکول کے استعفے کا خیرمقدم نہیں کرتے اور صدر ٹرمپ کے لیے اب یہ تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے کہ ہیگستھ محکمہ دفاع کو دیرپا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ڈرِسکول عراق میں خدمات انجام دینے والے فوجی اہلکار رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 2020 میں کانگریس کا انتخاب لڑا تھا تاہم کامیاب نہیں ہوسکے۔ بعد ازاں انہوں نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم میں ٹرمپ کے مشیر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

پیٹ ہیگستھ نے رواں سال اپریل میں آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو برطرف کردیا تھا اور اب تک ان کے مستقل جانشین کا نامزدگی عمل مکمل نہیں ہوسکا۔ یوں ڈرِسکول کے جانے کی صورت میں امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں ایک اور اہم خلا پیدا ہونے کا امکان ہے۔