اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈان نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی بیٹی اور عالمی ادارۂ صحت کی جنوب مشرقی ایشیا ریجنل ڈائریکٹر سائما واجد نے مالی بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سائما واجد نے بدھ کو استعفیٰ دیا، جبکہ عالمی ادارۂ صحت نے بتایا کہ اس سے ایک روز قبل ایک کمیٹی نے انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔ وہ 2024 کے آغاز میں پانچ سالہ مدت کے لیے اس عہدے پر منتخب ہوئی تھیں۔
ڈبلیو ایچ او نے انہیں 2025 کے اواخر میں بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر بھیج دیا تھا۔ اس سے قبل جولائی 2025 میں بنگلہ دیش کے عبوری حکومت کے تحت کام کرنے والے اینٹی کرپشن کمیشن نے مارچ میں ان کے خلاف فراڈ اور جعل سازی کے الزامات عائد کیے تھے۔
ڈبلیو ایچ او سے متعلق ایک قانونی خط میں سائما واجد پر چین کے سفر کے سلسلے میں مالی فراڈ کرنے اور اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ سائما نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ان پر بنگلہ دیش میں ایک پلاٹ غیرقانونی طور پر حاصل کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ تاہم سائما کا مؤقف ہے کہ انہوں نے یہ جائیداد ڈبلیو ایچ او میں شمولیت سے پہلے حاصل کی تھی اور شیخ مجیب الرحمٰن کے خاندان کے لیے بنگلہ دیشی قانون کے تحت وہ اس کی حق دار تھیں۔
استعفے میں سائما واجد نے کہا کہ وہ خطے کے ممالک کی خدمت کے لیے مخلص تھیں، تاہم انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکا گیا اور ڈبلیو ایچ او کی قیادت پر ان کا اعتماد ختم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک سال تک تنخواہ نہ ملنے کے باعث ان کے لیے مالی صورتحال ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان نے کہا کہ ادارہ انصاف اور مناسب قانونی طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تنظیم کے مفادات اور مینڈیٹ کا تحفظ کرے گا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق ڈاکٹر نیلیش بدھا نئے ریجنل سربراہ کی تقرری تک قائم مقام عہدیدار کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔
