اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے لاہور زون نے پاکستانی شہری فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر امریکی حکام نے مبینہ طور پر جعلی امریکی ڈاک لیبلز آن لائن فروخت کرنے اور امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق فہیم اکرم پر اگست 2023 سے گزشتہ ماہ تک جاری رہنے والی مبینہ اسکیم میں 51 لاکھ سے زائد جعلی شپنگ لیبل فروخت کرنے کا الزام ہے۔ ایجنسی نے اس معاملے سے منسلک تقریباً 35 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کا ذکر کیا ہے، جبکہ 126 ملین ڈالر کا تخمینہ امریکی پوسٹل سروس کو پہنچنے والے مبینہ نقصان سے متعلق ہے۔ مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے 28 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ فلوریڈا کے جنوبی ضلع کی وفاقی گرینڈ جیوری نے 33 سالہ فہیم اکرم کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے۔ وہ خانیوال کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔ ان پر امریکی حکومت کو دھوکا دینے کی سازش، جعلی ڈاک ٹکٹوں یا لیبلز اور وائر فراڈ سمیت الزامات لگائے گئے ہیں۔
امریکی استغاثہ کے مطابق لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ کو امریکی پوسٹل سروس کی مصنوعات اور خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ ان پر الزام ہے کہ ویب سائٹ پر جعلی ڈاک لیبل مقررہ قیمت پر فروخت کیے جاتے تھے، چاہے پارسل کا وزن، سائز یا منزل کچھ بھی ہو۔ اس طرح صارفین کو قانونی ڈاک چارجز کے مقابلے میں نمایاں کم قیمت پر پارسل بھیجنے کا موقع ملتا تھا۔
امریکی عدالتی ریکارڈ کے مطابق 5,200 سے زائد افراد نے ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زیادہ جعلی شپنگ لیبل خریدے۔ عدالت کے حکم پر ویب سائٹ کو ضبط کرکے بند کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر 16 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ان میں سات فہیم اکرم، پانچ ان کے بھائی، دو ان کی اہلیہ، جبکہ ایک ایک اکاؤنٹ ان کی بہن اور خالہ کے نام سے منسلک بتایا گیا ہے۔
فردِ جرم میں عائد الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے۔ مقدمے کی پیش رفت اور پاکستانی و امریکی حکام کے قانونی تعاون سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر معاملے کی صورت حال واضح ہوگی۔
