Moscow’s diplomatic push for a Ukraine agreement; proposal for a summit with Trump and Xi

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) رائٹرز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے  کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اگلے ماہ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اتوار کو اس معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مجوزہ مذاکرات کا مقصد ایسا معاہدہ طے کرنا ہے جس میں روس کے مفادات کو ترجیح مل سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور پوتن کے تعلقات میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے روسی ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا، جبکہ جمعے کو ماسکو پر عائد اہم پابندیوں میں نرمی دینے کا حکم بھی جاری کیا۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے پوتن کو حوصلہ مل سکتا ہے اور جنگ طویل ہو سکتی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پوتن نے 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں یہ تجویز پیش کی تھی۔ اخبار نے معاملے سے باخبر ایک سابق روسی انٹیلی جنس افسر کا حوالہ دیا، جس کے مطابق اسی گفتگو کے نتیجے میں ڈیزل معاہدے کی راہ بھی ہموار ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کریملن نے ممکنہ سہ فریقی ملاقات کے لیے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن سربراہی اجلاس کے موقع پر بات چیت کی تجویز دی ہے۔ یہ اجلاس 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینژن میں ہونا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ممکنہ ملاقات پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی اجلاس یا اس کے ایجنڈے کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق تینوں فریق اس امکان کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایسی ملاقات ہو سکتی ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ ٹرمپ نے ابھی تک اس سربراہی اجلاس پر رضامندی نہیں دی، تاہم وہ اس خیال پر غور کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، جبکہ کریملن، روسی سفارت خانے اور چینی سفارت خانے سے بھی فوری طور پر مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن مجوزہ اجلاس کے انعقاد، اس کے ایجنڈے اور کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یوکرین کو مجوزہ مذاکرات میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔