اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیشن کی خبر کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس گفتگو کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور ساکھ نے اسے ایک قابل اعتماد ثالث کا کردار ادا کرنے میں مدد دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، اس کے بعد جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے فریم ورک تشکیل دینے میں مدد ملی۔
گوتریس نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے حالات پیدا کیے، جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے۔
انہوں نے اسلام آباد سے تمام فریقوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ختم کی جائے، سفارت کاری کی طرف واپس آیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیوں کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران 47 سال بعد براہ راست مذاکرات کی جانب آئے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو خودمختاری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں سے جوڑا۔
گوتریس نے فلسطین کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے فلسطینیوں کی مشکلات فوری طور پر ختم کرنے اور امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔
انہوں نے مغربی کنارے میں تشدد اور آبادکاری سے متعلق فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے گوتریس کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک نشانِ امتیاز عطا کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے کسی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو یہ اعزاز دیا ہے۔
صدر نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی امن مشن سرگرمیوں میں طویل شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 270,000 سے زائد پاکستانی امن دستے 48 عالمی امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
زرداری نے سندھ طاس معاہدے کو ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا اور پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔
صدر نے افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے پر بھی پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
گوتریس نے پاکستان کی مہمان نوازی، دہشت گردی کے خلاف عوام کی قربانیوں اور ملک کی ثابت قدمی کو بھی سراہا۔
