اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب نیوزکی خبر کے مطابق اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کو علاقائی خطرہ قرار دیا اور غزہ و مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
نیویارک میں خطاب کے دوران شاہ عبداللہ نے کہا کہ دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر روز نیا بحران اور انسانی المیہ سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی توجہ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کون سا تنازع سفارتی ترجیحات میں برقرار رہتا ہے اور کون سا نظرانداز ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی قانون کو کئی دہائیوں تک نظرانداز کیا جاسکتا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قانون کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے۔
شاہ عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد جنگ بندی کے پہلے 300 دنوں میں غزہ میں کم از کم 300 فلسطینی بچے مارے گئے۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر حملے جاری رکھنے، شہری انفراسٹرکچر تباہ کرنے اور غزہ سے انخلا نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
ان کے مطابق فلسطینی آبادی کو غزہ کے بمشکل ایک تہائی رقبے تک محدود کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی پالیسیوں کو محض عارضی فوجی اقدامات یا جنگ کا نتیجہ قرار دینے سے بھی گریز کرنے پر زور دیا۔
اردن کے بادشاہ نے مغربی کنارے میں آبادکاری، فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملوں، زمینوں اور املاک کی تباہی میں اضافے کو بھی خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مواقع پر اسرائیلی فوج آبادکاروں کو تحفظ فراہم کرتی یا تشدد میں شریک ہوتی ہے۔
شاہ عبداللہ نے کہا کہ غزہ تباہ ہوچکا ہے جبکہ مغربی کنارہ عملاً ضم کیا جارہا ہے، جس سے قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام مشکل ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے 2002 کے عرب امن اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عرب دنیا نے اسرائیل کے ساتھ امن سے انکار نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق 57 عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے فلسطینی ریاست کے قیام کی پیشکش کی گئی تھی۔
شاہ عبداللہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ پابندیوں، اثاثے منجمد کرنے، اسلحہ پابندی اور سفارتی دباؤ جیسے ذرائع استعمال کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی پالیسیوں کے اثرات فلسطین تک محدود نہیں رہ سکتے اور شام سمیت خطے کے دیگر حصوں میں ہونے والی پیش رفت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
