Significant development ahead of the Islamabad march Shahbaz Sharif contacts Hafiz Naeem and offers to hold talks.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر  کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والے جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے رابطہ کرکے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کردی اور پاکستان واپسی پر بامعنی مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حافظ نعیم سے اس وقت ٹیلی فونک رابطہ کیا جب وہ وفاقی دارالحکومت کی جانب ٹرین مارچ کی قیادت کرتے ہوئے ملتان پہنچے تھے۔ حافظ نعیم نے یقین دہانی کرائی کہ جماعتِ اسلامی کسی قسم کا تصادم یا امن و امان کا مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتی۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی سڑکوں پر عوام کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے نکلی ہے اور حکومت کو احتجاج کے آئینی حق کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی درخواست پر وہ جماعت کی مرکزی شوریٰ سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔

جماعتِ اسلامی کے امیر نے واضح کیا کہ مارچ مؤخر ہونے کی صورت میں بھی احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرتی ہے تو جماعتِ اسلامی کو کسی انا کا مسئلہ نہیں۔

جماعتِ اسلامی کا ٹرین مارچ پیر کی رات چار گھنٹے کی تاخیر سے ملتان پہنچا، تاہم حافظ نعیم کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں کارکن اور حامی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دیکھ لینا چاہیے کہ ملتان میں کتنے لوگ ان کے استقبال کے لیے باہر نکلے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعتِ اسلامی پیٹرولیم لیوی میں شامل اضافی رقم کو عوام پر ’’بھتہ ٹیکس‘‘ قرار دیتی ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے آٹا، گندم اور چینی کی قیمتوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی غریب اور متوسط طبقے کے مسائل اٹھا رہی ہے۔

کراچی سے شروع ہونے والا مارچ ملتان کے بعد لاہور اور پھر اسلام آباد پہنچنے کا پروگرام رکھتا ہے۔ حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان اس معاملے پر پہلے بھی مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں، تاہم لیوی کے خاتمے پر تاحال اتفاق نہیں ہوسکا