Devastating floods in Nepal, Pakistan sends 100 tons of humanitarian aid

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی نیوز کی خبر کے مطابق پاکستان نے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ نیپال کے لیے 100 ٹن انسانی امداد روانہ کردی ہے، جہاں قدرتی آفت کے باعث 1300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتا ہوچکے ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امداد کی روانگی کے موقع پر کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امدادی سامان میں خیمے، کمبل، چٹائیاں، حفظانِ صحت کی کٹس اور ادویات شامل ہیں، جو آفت سے متاثرہ لوگوں کی فوری ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی دعائیں جاں بحق افراد کے خاندانوں اور تمام متاثرین کے ساتھ ہیں اور اسلام آباد اس مشکل وقت میں نیپال کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1,341 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تقریباً 4,996 افراد لاپتا ہیں۔

تبت میں بھی 43 افراد ہلاک اور 519 لاپتا ہیں۔ یوں نیپال اور چین میں مجموعی ہلاکتیں 1,384 جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 5,500 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

حکام اور امدادی کارکنوں کے مطابق 26 اگست کو دریا کے بالائی علاقے میں گلیشیئر کا ایک حصہ ٹوٹنے کے بعد آنے والے سیلابی ریلے نے چھ پن بجلی منصوبوں سے منسلک سرنگوں میں کم از کم 900 افراد کو پھنسادیا۔

گلیشیئر کے ٹوٹنے کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی دنیا بھر میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھا رہی ہے، جس سے ایسے سانحات کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے تباہی کو ’ہمالیائی سونامی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیر نو کے اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

 اقوام متحدہ اور اس کے انسانی امداد کے شراکت داروں نے 84 ہزار سے زائد متاثرین کے لیے فوری امداد کی غرض سے 49.6 ملین ڈالر کی فلیش اپیل جاری کی ہے۔

نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ دھرم راج اپریتی کے مطابق گھروں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو کم از کم 387.5 ارب نیپالی روپے، یعنی 2.56 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 20 ہزار گھروں کی دوبارہ تعمیر درکار ہوگی جبکہ کم از کم 7,500 گھر تباہ ہوچکے ہیں۔