اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق راولپنڈی میں مسلسل تباہ کن بارشوں اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران چار مرتبہ سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے جمعہ 4 اور ہفتہ 5 ستمبر کو اسلام آباد، راولپنڈی اور پوٹھوہار ریجن میں مزید موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کردی ہے۔
صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے والدین سے کہا ہے کہ بارش کے دوران بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔ انتظامیہ کے مطابق شدید بارش شروع ہوتے ہی بچوں کی نقل و حرکت روکنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔
راولپنڈی میں رواں ہفتے بارشوں کے باعث پہلے ہی ایمرجنسی نافذ ہے، جبکہ مسلسل بارشوں نے شہری علاقوں میں خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔ نالہ لئی کے تقریباً 18 کلومیٹر طویل راستے، 15 بڑے برساتی نالوں کے اطراف اور انتہائی نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ ضلع بھر میں تقریباً 200 مین ہولز ایسے ہیں جن پر حفاظتی جالیاں یا کور موجود نہیں۔ حکام کے مطابق شدید مالی مشکلات کے باعث یہ کام مکمل نہیں ہوسکا۔ انتظامیہ نے ان مین ہولز پر ایسی حفاظتی جالیاں نصب کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو کم از کم 100 کلوگرام وزن برداشت کرسکیں۔
دوسری جانب برساتی نالوں کے اطراف حفاظتی دیواروں کی تعمیر کا کام بھی تاحال مکمل نہیں ہوسکا، جس کے باعث شدید بارش کی صورت میں شہریوں کو مزید خطرات لاحق ہیں۔
مسلسل بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث نالہ لئی اور دیگر برساتی نالوں کے قریب رہنے والے افراد سمیت انتہائی نشیبی علاقوں کے مکین عارضی طور پر محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔ بعض متاثرہ خاندانوں کو تقریباً ایک ماہ تک نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل رہنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی نئی پیشگوئی کے بعد انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بچوں کو نالوں اور پانی جمع ہونے والے مقامات سے دور رکھیں اور شدید بارش کے دوران ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
