Assembly passes resolution opposing division of Sindh; opposition boycotts House

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز کی خبر کے مطابق سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کے احتجاج اور بائیکاٹ کے باوجود صوبے کی تقسیم یا نئی انتظامی اکائیاں بنانے کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے قرارداد منظور کرلی، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

جمعرات کو اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور جماعت اسلامی کے ارکان اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی تقریر کے فوراً بعد ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے قرارداد میں شامل کرنے کے لیے تجویز کردہ تین نکات کو شامل کرنے سے انکار کردیا۔

قرارداد پیش کیے جانے کے وقت پاکستان تحریک انصاف کے ارکان بھی ایوان میں موجود نہیں تھے۔

منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کے قیام کے حوالے سے دوبارہ عوامی بحث شروع ہوئی ہے اور بعض تجاویز سندھ کی موجودہ علاقائی حدود کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ایوان نے سندھ کو تقسیم کرنے، اس کی موجودہ حدود تبدیل کرنے یا اس کے علاقے سے نیا صوبہ بنانے کی ہر تجویز، منصوبے، اسکیم یا آئینی انتظام کو واضح طور پر مسترد کردیا۔

قرارداد میں سندھ کے کسی بھی حصے کو الگ وفاقی یا کسی دوسری انتظامی یونٹ کے تحت رکھنے کی تجویز بھی مسترد کی گئی۔ ایوان نے وفاقی حکومت، پارلیمنٹ، تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ سندھ کے عوام کی جانب سے بارہا ظاہر کیے جانے والے جمہوری مؤقف کا احترام کریں۔

اس سے قبل بحث سمیٹتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ منتخب سندھ اسمبلی کی رضامندی کے بغیر صوبے کی حدود تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول اور غیر آئینی ہوگی۔

انہوں نے کہا، ’آج آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ سندھ کو کون تقسیم کرنا چاہتا ہے اور کون اس کے خلاف کھڑا ہے۔‘

وزیراعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 239(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی ترمیم نے قومی اسمبلی کو صوبائی حدود سے متعلق قانون سازی کا اختیار دیا، تاہم اس کے لیے دو تہائی اکثریت اور صدر مملکت کی منظوری کی شرط موجود ہے۔

مراد علی شاہ نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر متضاد مؤقف اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومتی ارکان نے بات شروع کی تو اپوزیشن نے اپنا مؤقف بدل لیا اور کہا کہ وہ نیا صوبہ نہیں چاہتی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ان نکات کو الگ قرارداد میں شامل کیا جاسکتا تھا کیونکہ اسمبلی کے قواعد کے مطابق ایک قرارداد میں ایک ہی موضوع زیر بحث آنا چاہیے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کے خلاف ایوان میں پہلے ہی اصولی اتفاق موجود ہے، اس لیے چار روزہ بحث اور بار بار قراردادیں لانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے پیپلز پارٹی پر حکومتی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بحث کو طول دینے کا الزام عائد کیا۔

خورشیدی کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نئے صوبوں کا مطالبہ نہیں کررہی بلکہ سندھ کی موجودہ چھ ڈویژنز کو بااختیار بنانے کی بات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، شہید بینظیرآباد اور لاڑکانہ سمیت موجودہ انتظامی ڈویژنز کو مالی، انتظامی اور سیاسی اختیارات دیے جائیں۔