اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق چین نے اعلیٰ سطح کی عسکری قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے مرکزی فوجی کمیشن کے دو سینئر ارکان ژانگ یوشیا اور لیو ژنلی کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق دونوں افسران کے خلاف نظم و قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے شبے میں تحقیقات کے بعد کارروائی کی گئی۔
دونوں جنرلز کی برطرفی کے بعد سات رکنی مرکزی فوجی کمیشن میں صدر شی جن پنگ سمیت صرف دو فعال ارکان رہ گئے ہیں۔
ژانگ یوشیا صدر شی جن پنگ کے بعد مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے دوسرے اہم ترین عہدیدار تھے۔ وہ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے طاقتور پولٹ بیورو کے رکن بھی تھے۔
دوسری جانب لیو ژنلی مرکزی فوجی کمیشن کے رکن ہونے کے ساتھ جوائنٹ اسٹاف ڈپارٹمنٹ کے سربراہ بھی تھے، جس کے باعث انہیں چین کی عسکری قیادت میں انتہائی اہم مقام حاصل تھا۔
چینی فوج گزشتہ کئی برس سے صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کی گئی وسیع انسدادِ بدعنوانی مہم کا ایک اہم ہدف رہی ہے۔ 2012 میں شروع ہونے والی اس مہم کے دوران متعدد اعلیٰ حکام اور سینئر فوجی افسران کے خلاف تحقیقات اور کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی شی جن پنگ نے حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ فوج میں بدعنوانی کے خلاف جنگ مزید مضبوط کی جائے۔
چین میں کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی سطح پر مرکزی فوجی کمیشن کے الگ ڈھانچے موجود ہیں، تاہم دونوں عملی طور پر ایک ہی ادارے کے طور پر کام کرتے ہیں۔
جمعے کو نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے جاری اعلان ریاستی مرکزی فوجی کمیشن سے متعلق تھا۔ تاہم دونوں جنرلز کو حکمران کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی فوجی کمیشن سے باضابطہ طور پر ہٹائے جانے کا اعلان تاحال عوامی سطح پر نہیں کیا گیا۔
چینی پارلیمنٹ نے جمعے کو ارکان کی تازہ فہرست جاری کی، جس میں ژانگ یوشیا اور لیو ژنلی کے نام موجود نہیں تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں نے نیشنل پیپلز کانگریس کی نشستیں بھی کھو دی ہیں۔
ان کے علاوہ 10 دیگر قانون سازوں کے نام بھی تازہ فہرست سے نکال دیے گئے۔ ان میں لیفٹیننٹ جنرل ژونگ شاؤجون بھی شامل ہیں، جو مرکزی فوجی کمیشن کے جنرل آفس کے سابق ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔
جنرل جو چیانگ شینگ کا نام بھی فہرست میں شامل نہیں، جو چین کی اسٹریٹیجک سپورٹ فورس کے سابق کمانڈر تھے۔
