اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی نو منتخب قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس آج پیر کو مظفرآباد میں ہوگا، جس کے ساتھ 2026 کے عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی اور حکومت کی تشکیل کا باقاعدہ عمل شروع ہوجائے گا۔ نو منتخب ارکان کے حلف سے قبل سات مخصوص نشستوں کے لیے صبح 10 بجے سے دوپہر ایک بجے تک پولنگ ہوگی۔
مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے پانچ جبکہ ٹیکنوکریٹس اور مذہبی اسکالرز کے لیے ایک، ایک نشست شامل ہے۔ اوورسیز کشمیریوں کے لیے مخصوص نشست مسلم لیگ ن کے امیدوار عبدالرحمن آرائیں پہلے ہی بلامقابلہ جیت چکے ہیں۔
مخصوص نشستوں کے نتائج کے اعلان کے بعد نومنتخب ارکان سہ پہر 2 بجے حلف اٹھائیں گے۔ اسمبلی کل منگل کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کرے گی جبکہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے 27 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
53 رکنی ایوان میں مسلم لیگ ن 25 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ مخصوص نشستوں اور عوام دستِ بازو کی حمایت ملنے کے بعد ن لیگ کی مجموعی طاقت 33 ارکان تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث اسے حکومت بنانے کے لیے واضح برتری حاصل ہے۔
حکومت سازی سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے اتوار کو اپنی ہفتہ وار ملاقات میں آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم اور اسپیکر کے ناموں پر مشاورت کی۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا پہلا باقاعدہ اجلاس پارٹی صدر اور متوقع وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں حکومت سازی، مخصوص نشستوں کے انتخابات، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور آئندہ سیاسی و انتظامی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی نے ایک متفقہ قرارداد میں آزاد کشمیر میں نواز شریف کے وژن کے مطابق ترقی، آئین و قانون کی بالادستی، میرٹ اور انصاف کو ترجیح دینے کا عزم ظاہر کیا۔
قرارداد میں قانون و امان بہتر بنانے، رکے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کو بحال کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
اجلاس میں افواج پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کی حمایت کی گئی جبکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت کو بھی سراہا گیا۔
مسلم لیگ ن نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور بھارت کی جانب سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
پارلیمانی پارٹی نے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔
رپورٹس کے مطابق نواز شریف کو آئندہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے نام کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ شاہ غلام قادر اور چوہدری طارق فاروق اس منصب کے نمایاں امیدواروں میں شامل ہیں۔
