اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے نتیجے میں 2021 سے اب تک اندازاً 24 لاکھ افغان لڑکیاں اسکول سے محروم ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے منگل کو جاری بیان میں کہا ہے کہ افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین کو باقاعدہ طور پر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق یہ پابندی افغانستان کو طویل عرصے تک اپنے انسانی اور معاشی امکانات سے محروم کر سکتی ہے، غربت میں اضافہ کر سکتی ہے اور ایسے نقصانات کا سبب بن سکتی ہے جن کا ازالہ ممکن نہ ہو۔
ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ خواتین کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے باعث 2066 تک تقریباً 6 لاکھ افغان خواتین افرادی قوت سے باہر ہو سکتی ہیں، جبکہ اس عرصے میں مجموعی آمدنی کا نقصان تقریباً 9.6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یونیسکو نے یہ بھی خبردار کیا کہ تعلیم سے محرومی کم عمری کی شادی کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
طالبان اس ہفتے افغانستان میں اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ 2021 میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے انخلا کے بعد طالبان نے اقتدار سنبھالا تھا اور اس وقت عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت برقرار رہے گی۔
تاہم طالبان کے وعدوں کے برعکس مارچ 2022 میں لڑکیوں کے لیے ثانوی اسکول بند کر دیے گئے۔ اس کے بعد دسمبر 2022 میں خواتین کے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ طالبان نے دونوں اقدامات کو عارضی قرار دیا تھا، لیکن یہ پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔
یونیسکو کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ طالبان کی پالیسیوں نے خواتین کے روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت کو بھی محدود کیا ہے۔
طالبان انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتی ہے، تاہم یہ حقوق ان کی جانب سے اسلامی قانون اور افغان ثقافت کی تشریح کے مطابق ہونے چاہئیں۔
طالبان کے زیر انتظام وزارت تعلیم نے یونیسکو کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ تعلیم پر موجودہ پابندیاں صرف موجودہ نسل کو متاثر نہیں کر رہیں بلکہ افغانستان کے مستقبل کے معاشی، سماجی اور انسانی ترقی کے امکانات پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
