اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوز نے اپنی خبر میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے گزشتہ ماہ تقریباً 51 ہزار افراد کو گرفتار کیا، جو ادارے کی تاریخ میں کسی ایک ماہ کے دوران گرفتاریوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ ادارے نے اوسطاً 1,645 گرفتاریاں روزانہ کیں۔ جولائی کی گرفتاریوں کی تعداد نے جون میں قائم ہونے والا تقریباً 43 ہزار کا سابقہ ماہانہ ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
یوں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے کارروائی مسلسل دوسرے ماہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار میں واپسی کے بعد ملک بھر میں ایسے افراد کی شناخت، گرفتاری اور ملک بدری کے لیے کارروائیاں تیز کردی ہیں جو امریکی حکام کے مطابق قانونی حیثیت کے بغیر ملک میں مقیم ہیں۔
ریاست جارجیا میں بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کے دوران 1,226 افراد کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ ہوائی اڈوں سے بھی 30 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران جون تک 356,389 افراد کو ملک بدر کیا جاچکا تھا۔
محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا اور ایسے افراد کو ملک سے نکالنا ہے جو عوامی تحفظ کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن نے کہا کہ 80 فیصد امریکی مجرمانہ پس منظر رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے افراد کو ہٹانا امریکا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔
تاہم کریک ڈاؤن پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں بعض ایسے افراد بھی زیرحراست آئے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور ان کے پاس کام کرنے کی قانونی اجازت یا عارضی قانونی دستاویزات موجود تھیں۔
امیگرنٹ حقوق کے حامیوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا موجودہ کارروائیاں صرف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد تک محدود ہیں یا ان کا دائرہ ایسے لوگوں تک بھی بڑھ رہا ہے جو دیگر قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
