The United States has tightened rules for immigration applications, and incomplete applications can be rejected immediately.

اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق امریکا نے امیگریشن درخواستوں سے متعلق نئی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کے تحت گرین کارڈ، ورک پرمٹ، شہریت اور دیگر امیگریشن سہولیات کے لیے نامکمل درخواستیں جمع کرانے والے افراد کو پہلے کی طرح اضافی دستاویزات فراہم کرنے کا موقع دیے بغیر ہی درخواست مسترد کی جا سکے گی۔

امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کی جانب سے جاری نئی ہدایات 5 اگست 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت امیگریشن افسران کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ اگر کسی درخواست کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات یا اہلیت کے ثبوت مکمل نہ ہوں تو درخواست مسترد کر سکتے ہیں۔

یہ پالیسی گرین کارڈ، ورک پرمٹ، امریکی شہریت، سفری دستاویزات، مستقل رہائش کے اسٹیٹس میں تبدیلی اور یو ایس سی آئی ایس کے زیر انتظام دیگر امیگریشن درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی۔

یو ایس سی آئی ایس کا کہنا ہے کہ نئی ہدایات کے تحت درخواست گزاروں پر لازم ہوگا کہ وہ درخواست جمع کراتے وقت اپنی اہلیت ثابت کرنے والے تمام ضروری شواہد اور دستاویزات ساتھ فراہم کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو درخواست فوری طور پر مسترد کیے جانے کا امکان ہوگا۔

ادارے کے مطابق یہ فیصلہ محکمہ داخلی سلامتی کے دیرینہ قواعد کے مطابق افسران کے صوابدیدی اختیارات بحال کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور اس سے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کی وہ پالیسی ختم ہو گئی ہے جس میں افسران کو نامکمل درخواستوں پر پہلے اضافی معلومات طلب کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔

یو ایس سی آئی ایس کے مطابق سابقہ نظام میں بعض افراد جان بوجھ کر نامکمل یا پلیس ہولڈر درخواستیں جمع کرا دیتے تھے تاکہ ورک پرمٹ یا دیگر عارضی امیگریشن فوائد حاصل کر سکیں۔ نئی پالیسی کا مقصد غیر سنجیدہ درخواستوں کی حوصلہ شکنی، درخواستوں کی جانچ کا عمل تیز کرنا اور مکمل درخواستیں جمع کرانے والوں کے کیسز جلد نمٹانا ہے۔

امیگریشن ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے اثرات جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ہزاروں درخواست گزاروں پر بھی پڑ سکتے ہیں، کیونکہ ان ممالک کے شہری خاندانی اور ملازمت کی بنیاد پر بڑی تعداد میں گرین کارڈ، ورک پرمٹ اور شہریت کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔

یو ایس سی آئی ایس نے واضح کیا ہے کہ نئی پالیسی سے امیگریشن کے بنیادی قوانین یا گرین کارڈ، ورک پرمٹ اور شہریت کے لیے اہلیت کے معیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔