Fake online identities, malicious code and unauthorized internet access, new report on AI models from OpenAI and Anthropic

 اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈان نیوزکی خبر کے مطابق برطانیہ کے اے آئی سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے جدید مصنوعی ذہانت ایجنٹس نے سیکیورٹی جانچ کے دوران متعدد غیرمجاز اقدامات کیے، جن میں جعلی آن لائن شناختیں بنانا، نقصان دہ کوڈ تیار کرنا اور محفوظ نظام تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ ادارے نے اگرچہ واضح کیا کہ ان تجربات کے نتیجے میں حقیقی دنیا میں کوئی نقصان نہیں ہوا، تاہم رپورٹ نے جدید اے آئی ایجنٹس کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات سے متعلق نئے سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی ادارے نے اوپن اے آئی کےجی پی ٹی-5.6-سول اور اینتھروپک کے مائیتھوس ۵ ماڈلز کی سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک فرضی ماحول میں 122 الگ الگ ٹیسٹ کیے، جن میں 10 ٹیسٹ رنز کے دوران مجموعی طور پر 19 غیرمجاز سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی۔ ان میں سے 17 واقعات اینتھروپک کے ماڈل اور 2 اوپن اے آئی کے ماڈل سے منسلک تھے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے سنگین واقعے میں ایک اے آئی ایجنٹ نے نقصان دہ کوڈ تیار کیا اور اس کو منظور کروانے کے لیے جعلی آن لائن شناختیں بھی بنائیں تاکہ کسی انسان کو دھوکے سے اس کی منظوری پر آمادہ کیا جا سکے۔ اگرچہ ادارے نے متعلقہ ماڈل کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم بعد میں اینتھروپک نے تصدیق کی کہ یہ کارروائی اس کے اے آئی ایجنٹ نے کی تھی۔

اینتھروپک نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس واقعے کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے لیے برطانوی ادارے کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اندرونی تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔ دوسری جانب اوپن اے آئی نے بتایا کہ اس کے دونوں غیرمجاز واقعات میں اے آئی ایجنٹس نے ہدایات کے برعکس انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی، جبکہ ایک علیحدہ واقعے میں تیسرے فریق کے ٹیسٹنگ فراہم کنندہ کی تکنیکی غلطی کے باعث بھی انٹرنیٹ کنیکشن قائم ہوگیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تمام تجربات محدود اور کنٹرول شدہ ماحول میں کیے گئے، تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل میں زیادہ خودمختار اے آئی ایجنٹس کی جانچ کے لیے مزید سخت حفاظتی اصول اور مشترکہ عالمی معیار ناگزیر ہوں گے۔