اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) دی گارڈئین کی خبر کے مطابق اردن نے خبردار کیا ہے کہ یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کے احاطے کی تاریخی و مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششیں انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جس کے پیش نظر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے موجودہ اسٹیٹس کو میں کسی بھی قسم کی مداخلت پورے خطے کو مذہبی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات فلسطین اور اردن سے نکل کر پوری مسلم دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔
یہ ہنگامی اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب گزشتہ ماہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی قیادت میں دو ہزار سے زائد انتہا پسند یہودی آبادکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے عبادات اور مذہبی رسومات ادا کیں۔ اردنی حکام نے اس واقعے کو جدید تاریخ میں اسٹیٹس کو کی بدترین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اردن کو حالیہ دنوں اسرائیل کی جانب سے ٹیمپل ماؤنٹ کے لیے خصوصی پولیس یونٹ میں بھرتیوں اور ستمبر میں آنے والی یہودی مذہبی تعطیلات کے دوران مزید اشتعال انگیز اقدامات کا بھی خدشہ ہے۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل میں آئندہ انتخابات سے قبل دائیں بازو کی حکومت ایسے اقدامات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے کہا کہ اردن تمام قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس پیش رفت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یروشلم ایک بارود کا ڈھیر بن چکا ہے اور عالمی برادری کو فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
اردن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 1994 کے امن معاہدے اور 1967 کے بعد طے شدہ انتظامات کے تحت مسجد اقصیٰ کی سرپرستی ہاشمی سلطنت کے پاس ہے اور اسی معاہدے کے مطابق اس مقدس مقام پر صرف مسلمان عبادت کر سکتے ہیں۔
اردنی حکومت نے مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی کسی بھی ممکنہ جبری بے دخلی کو بھی اپنی سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اس دوران اردن اور اسرائیل کے تعلقات میں پانی کی فراہمی کے تنازع نے بھی مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ اسرائیل نے 2021 کے معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے 100 ملین مکعب میٹر پانی کو کم کر کے دوبارہ 50 ملین مکعب میٹر کر دیا ہے، جسے اردنی حکام سیاسی دباؤ سے جوڑ رہے ہیں۔
