اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں قومی سطح کے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر شروع ہونے والی نوجوانوں کی احتجاجی تحریک نے حکومت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نامی نوجوانوں کی اس تحریک نے اعلان کیا ہے کہ نئی دہلی میں پیر کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے باوجود احتجاج جاری رکھا جائے گا، تاہم پارلیمنٹ کی جانب دوبارہ مارچ نہیں کیا جائے گا۔
یہ تحریک چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مئی میں میڈیکل کالجوں کے قومی داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے، کئی امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً ایک درجن طلبہ نے مایوسی کے باعث خودکشی بھی کی۔
پیر کے روز دہلی اور گرد و نواح سے ہزاروں افراد پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوئے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ دہلی پولیس کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 سے زائد پولیس اور سکیورٹی اہلکار جبکہ 60 مظاہرین شامل تھے۔ پولیس نے 70 مظاہرین کو حراست میں لینے کی بھی تصدیق کی ہے۔
منگل کو تقریباً 500 مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر پر دوبارہ جمع ہوئے اور حکومت مخالف نعرے لگائے، جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پر اپنے حامیوں، خصوصاً خواتین مظاہرین سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں پولیس تشدد سے محفوظ رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزید نوجوانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے پارلیمنٹ کی طرف مارچ ختم کیا جا رہا ہے، تاہم دھرنا اور احتجاج بدستور جاری رہے گا۔
اس تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 28 جون سے بھوک ہڑتال شروع کی۔ بعد ازاں حکام انہیں زبردستی اسپتال منتقل کر گئے، جس پر مظاہرین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
دوسری جانب بھارتی حکومت نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ وزیر صحت جے پی نڈا نے تحریک کے دو رہنماؤں سے ملاقات کی، جبکہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور ماحول کو مزید خراب نہیں ہونا چاہیے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نوجوان مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی مذمت کی، جبکہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے احتجاج میں ہونے والے تشدد کو منظم قرار دیا۔
