اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 27.2 ارب ڈالر کی بیرونی مالی معاونت حاصل کی، جس میں نئے قرضوں کے علاوہ چین اور سعودی عرب کی جانب سے رول اوور کیے گئے اربوں ڈالر بھی شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حاصل کی گئی رقم کا بڑا حصہ بجٹ خسارہ پورا کرنے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے پر خرچ ہوا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز مجموعی قرضوں کا صرف ایک محدود حصہ رہے۔
وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے جاری عبوری رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو 16 ارب ڈالر کے نئے بیرونی قرضے موصول ہوئے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 2.2 ارب ڈالر، سعودی عرب کی جانب سے 5 ارب ڈالر اور چین کی طرف سے 4 ارب ڈالر کے رول اوور بھی حاصل کیے گئے۔ یوں مجموعی بیرونی فنانسنگ کا حجم 27.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس مجموعی رقم میں سے تقریباً 24 ارب ڈالر بجٹ سپورٹ، بیرونی قرضوں کی واپسی اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ صرف 3.4 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 13 فیصد ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کا بڑا حصہ اب بھی قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے پر صرف ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے 18.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر میں بھی رول اوور قرضوں، ری فنانسنگ اور مقامی مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کا نمایاں کردار رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بیرونی مالیاتی تعاون پر انحصار کر رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مالی سال کے دوران برآمدات میں 6 فیصد کمی آئی اور ان کا حجم کم ہو کر 30 ارب ڈالر رہ گیا، جبکہ درآمدات اس سے تقریباً 40 ارب ڈالر زیادہ رہیں۔ اسی عرصے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی 2 ارب ڈالر سے کم رہی، جس سے بیرونی قرضوں کی ضرورت مزید بڑھ گئی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی حالیہ گفتگو میں کہا کہ سعودی عرب سے حاصل کیے گئے مزید 3 ارب ڈالر کے قرض کے رول اوور پر پیش رفت مثبت ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 139 ملین ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ ایک سال قبل 1.84 ارب ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے باوجود بڑھتی درآمدات نے بیرونی کھاتوں پر دباؤ برقرار رکھا۔
آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق پاکستان کو رواں مالی سال میں 21.2 ارب ڈالر جبکہ آئندہ مالی سال میں تقریباً 30 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات درپیش ہوں گی۔ عاشی چیلنج رہے گا۔
