اردو انٹرنیشنل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں سابق سفیر ضمیر اکرم لکھتے ہیں کہ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی تازہ سالانہ رپورٹ میں پہلی بار انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے اپنے تقریباً 190 جوہری ہتھیاروں میں سے 12 کو عملی طور پر تعینات کر دیا ہے۔ اس تعیناتی کا مطلب یہ ہے کہ جوہری وار ہیڈز کو ان کے ترسیلی نظاموں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، جسے ماہرین جوہری ہتھیاروں کی عمودی توسیع اور ایک خطرناک پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
ضمیر اکرم نے لکھا کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت غیر متوقع نہیں، کیونکہ پاکستان 2019 سے بھارت کی جوہری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسی سال بھارت نے اپنی جوہری آبدوز آئی این ایس اریہنت کے ذریعے پہلی بحری جوہری گشت کی تھی، جس میں جوہری وار ہیڈز کو میزائل ٹیوبز میں نصب کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد بھارت کی سمندری بنیادوں پر قائم جوہری سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت کا مظاہرہ کرنا تھا۔
انھون نے لکھا کہ تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت اب اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے اپنی تینوں جوہری آبدوزوں پر جوہری ہتھیار تعینات کر دیے ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کے اس مؤقف سے متصادم سمجھی جا رہی ہے جس کے تحت وہ خود کو ڈی-میٹڈ یا غیر فعال جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک قرار دیتا رہا ہے۔
ان کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض بھارتی اور مغربی دفاعی تجزیہ کاروں نے حالیہ برسوں میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایشیا میں جوہری بازدار قوت کی اہمیت کم ہو چکی ہے کیونکہ بھارت 2019 اور 2025 کی طرح جوہری حد سے نیچے رہتے ہوئے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائیاں کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم مضمون کے مطابق یہ دعویٰ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ دونوں مواقع پر کشیدگی بڑھنے کے باوجود بھارت نے اپنی متنازع کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن پر عمل نہیں کیا اور بالآخر جنگ بندی کی طرف جانا پڑا۔
ضمیر اکرم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس حکمت عملی نے بھارت کی روایتی فوجی برتری کو مؤثر انداز میں متوازن کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کو محدود جھڑپوں اور غیر روایتی ذرائع تک محدود رہنا پڑا۔
مضمون میں جدید جنگی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق 2025 کی کشیدگی میں میزائلوں، ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال نے روایتی اور جوہری قوتوں کے درمیان خطرناک تعلق پیدا کر دیا۔ خاص طور پر بھارت کے براہموس کروز میزائل کا استعمال تشویش کا باعث قرار دیا گیا، کیونکہ یہی میزائل جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
سابق سفیر نے یاد دلایا کہ مارچ 2022 میں بھارت نے مبینہ طور پر غلطی سے براہموس میزائل پاکستان کی جانب داغ دیا تھا۔ ان کے مطابق اگر ایسے حالات میں جوہری ہتھیار مکمل آپریشنل حالت میں موجود ہوں تو کسی بھی غلطی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
انھوں کالم میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان نے 2025 کے بحران کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بابر اور شاہین میزائل استعمال نہیں کیے تاکہ غیر ارادی جوہری کشیدگی سے بچا جا سکے۔ اسی تناظر میں پاکستان اپنی روایتی راکٹ فورس کو جوہری میزائل فورس سے الگ رکھنے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
ضمیر اکرم کے مطابق جنوبی ایشیا میں سب سے بڑا خطرہ غلط فہمی یا غلط اندازے کے نتیجے میں اچانک کشیدگی کا جوہری تصادم میں تبدیل ہو جانا ہے، خصوصاً اس وقت جب دونوں ممالک کے درمیان بحران کے انتظام کے مؤثر نظام موجود نہیں اور رابطے کا بنیادی ذریعہ صرف ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن ہے۔ مزید یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان ردعمل کا وقت محض تین منٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
کالم کے اختتام میں انھوں نے کہا ہے کہ بھارت کی حالیہ جوہری تعیناتی دراصل پاکستان کے خلاف اس کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے، جس کا مقصد روایتی اور جوہری میدان میں برتری حاصل کرنا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی قابل اعتماد سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت کسی بھی ممکنہ بھارتی مہم جوئی کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کو بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر اپنی سمندری جوہری صلاحیت، روایتی راکٹ فورس، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیتوں اور جدید جنگی نظاموں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن اور بازدار قوت برقرار رکھی جا سکے۔
